• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 26538

    عنوان:  میری امی کو کچھ سال پہلے میرے ماموں نے ان کی جائداد کا حصہ دیا تھاجو پانچ لاکھ کا تھا۔ میرے ماموں بینک میں ملازمت کرتے ہیں، اور انہوں نے یہ حصہ اسی سود کی آمدنی سے دیاتھا، اس رقم سے میری امی نے ایک گاڑی اور دو پلاٹ خریدی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ حصہ جو ترکہ میں امی کو ملاہے جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں!تو کیا امی کو گاڑی اور پلاٹ بیچ دینا چاہئے؟ اور پیسے کسی غریب مسحتق دیدینا چاہئے؟یا گاڑی اور پلاٹ کو استعمال کرنے کی کوئی صورت موجود ہے؟جیسے تھوڑا تھوڑا رکرکے گاڑی اور پلاٹ کی قیمت کو قسط وار نکالتے رہیں جیسے ابھی میری امی نے گاڑی کی ٹوٹل قیمت میں سے 10000/کی پہلی قسط نکالی ہے ، اور ایک ٹرسٹ میں جمع کردیاہے۔ براہ کرم، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ 

    سوال:  میری امی کو کچھ سال پہلے میرے ماموں نے ان کی جائداد کا حصہ دیا تھاجو پانچ لاکھ کا تھا۔ میرے ماموں بینک میں ملازمت کرتے ہیں، اور انہوں نے یہ حصہ اسی سود کی آمدنی سے دیاتھا، اس رقم سے میری امی نے ایک گاڑی اور دو پلاٹ خریدی۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ حصہ جو ترکہ میں امی کو ملاہے جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں!تو کیا امی کو گاڑی اور پلاٹ بیچ دینا چاہئے؟ اور پیسے کسی غریب مسحتق دیدینا چاہئے؟یا گاڑی اور پلاٹ کو استعمال کرنے کی کوئی صورت موجود ہے؟جیسے تھوڑا تھوڑا رکرکے گاڑی اور پلاٹ کی قیمت کو قسط وار نکالتے رہیں جیسے ابھی میری امی نے گاڑی کی ٹوٹل قیمت میں سے 10000/کی پہلی قسط نکالی ہے ، اور ایک ٹرسٹ میں جمع کردیاہے۔ براہ کرم، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔ 

    جواب نمبر: 26538

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1644=1188-11/1431

    آپ کی والدہ وہ گاڑی اور پلاٹ استعمال کرتی رہیں، البتہ اگر آپ کی ماں کو ان کے بھائی سود کی رقم سے پانچ لاکھ دے اس کا ان کو قطعی طور پر علم تھا تو بہتر یہ ہے کہ پانچ لاکھ کی رقم آہستہ آہستہ کرکے فقراء مساکین میں تقسیم کردیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند