• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 26157

    عنوان: اسلام علیکم ! جناب مفتی صاحب ہمارے والد صاحب کے دو بھائ ہیں یعنی کے کل ٣ بھائ ہیں. میرے والد صاحب ان میں سب سے بڑے ہیں . میرے دادا کا انتقال ١٩٧١ میں ہوا تھا اور ورثے میں صرف دو گھر اور تھوڑا سا سامان چھوڑ گئے تھے- میرے والد صاحب اور دو چچا اس وقت سب اکھٹے رہ رہے تھے- دونوں چاچے فوج میں نوکری کرتے تھے- اور ولد صاحب گھر پر ہوتے تھے- کچھ عرصہ بعد میرے بڑے چچا فوج سے واپس آ گئے اور گھر پر رہنے لگے لہٰذا میرے والد صاحب ١٩٧٧ میں روزگار کی تلاش میں دبئی چلے گئے. ١٩٨٧ میں بڑے چچا نے والد صاحب کو کہا کہ مجھے حساب کتاب دو میں الگ ہونا چاہتا ہوں- لہٰذا دادا صاحب کی جائیداد کو بشمول اسکے جو میرے والد صاحب نےگزشتہ ١٠ سال میں کمایا تھا تین برابر حصّوں میں تقسیم کیا. دونو مکانوں کی قیمت لگائ گئی ایک مکان بڑے چچا کو ملا جو الگ ہونا چاہ رہا تھا اور دوسرا مکان میرے والد صاحب کو جبکہ چھوٹے چچا کو مکان کے پیسے ملے . نقد رقم بھی تینوں میں برابر تقسیم ہوئی اوراسی وقت ہر ایک کو اپنا حصہ الگ کر کے دے دیا گیا. اب چونکہ چھوٹے چچا کے پاس الگ سے مکان نہیں تھا اور گھر میں کوئی اور بڑا نہیں تھا اس لیے کہ اس وقت ہم سب چھوٹے تھے چنانچہ والد صاحب نے چھوٹے چچا کو کہا کہ آپ فوج کی نوکری چھوڑ دو اور گھر پر رہنا شروع کر دو تاکہ اپنے اورمیرے بچوں کا دیکھ بھال کر سکو اور کمائی جو میں کرتا ہوں اس کو اکھٹے کھائیں گے. لہٰذا چھوٹے چچا فوج چھوڑکر گھرآ گئے اور گھر پر رہنا شروع کر دیا. والد صاحب کماتے تھے اور چچا صاحب اپنی مرضی کے مطابق اپنےبچوں اور ہم پر خرچ کرتے تھے. اور ان پیسوں سے کاروبار بھی کرتے تھے. المختصر یہ کہ وہ ان پیسوں کو اپنا سمجھ کر خرچ کرتےرہے. انھوں نے ان پیسوں سے١٩٩٢میں شہر میں ایک ٢ کنال کا پلاٹ لیا. اور پلاٹ کانتقال اپنے نام پر کر دیا اور ١٩٩٧ میں والد صاحب کی مرضی سے ٨٥ کنال زمین خریدی جس میں ١٥ کنال بڑے چچا کے نام پر لکھ دی کیونکہ اس نے نقد پیسہ دیا تھا اوربقیہ ٧٠ کنال ٣٥ ٣٥ کنال اپنے اور میرے والد صاحب کے نام پر لکھ دی. ٢٠٠٠ میں والد صاحب ریٹائرڈ ہو کر پاکستان واپس آ گئے. چچا کی فیملی پہلے ہی سے شہر میں رہ رہی تھی ایک کرایے کے مکان میں جس کو بعد میں والد صاحب نے خرید کر اس کو دے دیا تاکہ وہ اس میں رہ سکے لیکن بدقسمتی سے جب والد صاحب نے زمین پر اپنے لیے مکان بنانا شروع کیا تو اس دوران دونوں بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہویے اور بڑھتے بڑھتے ناراضگی میں تبدیل ہو گئے. اور یوں چھوٹے چچا نے مزید اکھٹے رہنے سے معذرت کر لی. والد صاحب سے کہنے لگے کہ میرے ساتھ حساب کتاب کرو میں مزید آپ کے ساتھ شریک نہیں رہنا چاہتا جس پر والد صاحب نے کہا کہ میں نے تو آپ کو ١٩٨٧ میں علیحدہ کر دیا تھا. جبکہ چچا کا کہنا ہے کہ چونکہ آپ نے اس وقت مجھے زبانی نہیں کہا تھا کہ آج سے ہم تم الگ الگ. اس لیے میرے ساتھ دوبارہ حساب کرنا ہوگا. حالانکہ انکو ان کے باپ کا حصہ پہلے ہی مل چکا ہے اور ساتھ میں نقد پیسہ بھی لیکن چچا کہتے ہیں کہ وہ پیسے جو مجھے اس وقت ملے تھے میں نے آپ کے یعنی کا والد صاحب کے پیسوں کے ساتھ اکھٹے رکھ دئیے تھے میں نے الگ نہیں کیے تھے جس کا صحیح علم تو صرف الله اور چچا ہی کو ہے کیوں کہ سارا حساب کتاب اس کے ہاتھ میں ہوتا تھا. جب یہ سب کچھ ہوا تو گاوں کے بڑے اور معززین اکھٹے ہویے اور بلاخر والد صاحب کو ایک بار پھر اس پر مجبور کردیا کہ چچا کے ساتھ دوبارہ اس سب جائیداد کا بٹوارہ کر دیں جو انھوں نے ١٩٨٧کے بعد کمائی تھی. چنانچہ باپ دادا کی زمین اور گھر وغیرہ کی جو تقسیم ١٩٨٧ میں ہوئی تھی اس کو برقرار رکھتے ہویے نئی جائیداد کو ایک بار پھر دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گیا بشمول ٧٠ کنال زمین کے. لیکن چونکہ یہ فیصلہ والد صاحب کو منظور نہ تھا اس لیے مسلہ وہیں کا وہیں رہ گیا. اور تعلقات مزید خراب ہو گئے یہاں تک کہ علیک سلیک اور آنا جانا بند ہو گیا. پھر مختلف اوقات میں مختلف لوگوں نے دونوں کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے بہت ساری کوششیں کیں لیکن ناکام رہے اوربلاخر٢٠٠٨ میں ایک بار پھر ایک جرگہ بنا جس میں باہمی رضامندگی سے یہ فیصلہ طے ہوا کہ ٧٠ کنال زمین والد صاحب کودے دی گئی اور جو نقد رقم کاروبار میں تھی جو کہ تقریبآ ٨ لاکھ پاکستانی روپےہیں وہ اور دو کنال پلاٹ جس پر ایک گھربھی تعمیر ہوا ہے وہ چھوٹے چچا کودے دیا گیا. باقی گھر کا سامان سارا آدھا آدھا تقسیم ہوا. اب چونکہ زمین آدھی چچا کہ نام پر تھی پس یوں فیصلہ ہوا کہ چچا پہلے گاوں جا کر وہاں سے گھر کا جتنا سامان اس کے حصّے کا بنتا ہے وہ اٹھا لایے گا اور واپس آ کر وہ زمین کے کاغذات ولد صاحب کے حوالے کر دے گا اور چچا کو کاروبار میں جو پیسہ ہے وہ نام کر دیا جائے گا. لیکن بدقسمتی سے چچا گاوں سے تو اپنا سارا سامان اٹھا کر لےآیے اور ایک اور معاملا کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر زمین کے کاغذات دینے سے انکاری ہو گئے. جس مسلہ کو بنیاد بنا کر چچا صاحب نے فیصلہ سے روگردانی کی وہ ١٩٨٧ کی تقسیم شدہ باپ داد کی زمین تھی جو کہ ایک پہاڑی کی شکل میں ہے جس کا ایک حصّہ والد صاحب کا ہے اور ایک چچا کا. اب چچاکہتا ہے کہ جو حصّہ والد صاحب کا ہے وہ میرا ہے جبکہ والد صاحب کہتے ہیں کہ نہیں یہ جھوٹ ہے یہ حصّہ میرا ہی ہے. جن لوگوں نے یہ تقسیم کی تھی ان میں سے ایک جو ان کےماموں تھے وہ تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں البتہ دو بندے ابھی تک زندہ ہیں. جن میں ایک تو بڑے چچا ہیں اور ایک اور عزیز ہیں مگر وہ دونوں صحیح بات کرنے سے قاصر ہیں- عزیز کی بات کو چچا تسلیم نہیں کرتے اور بڑے چچا سچ سچ کہنے سے کتراتے ہیں- اور معاملا ایک بار پھر ویسے کا ویسا رہ گیا. اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ١) کیا چچا کا میرے والد صاحب کی جائیداد میں (جو انھوں نے خود بنائی ہے) حصّہ بنتا ہے یا نہیں؟ شریعت میں اس کی کیاحیثیت ہے؟ ٢) کیا چچا کا یہ دعویٰ درست ہے کہ چونکہ مجھے زبانی نہیں بتایا گیا تھا کہ آج سے تم الگ ہواور ١٩٨٧ سےمیں ایک گھر میں آپ لوگوں کے ساتھ شریک رہا ہوں بلکہ میں توالگ ہوا ہی نہیں کیونکہ جو تقسیم ١٩٨٧ میں ہوئی تھی وہ تو صرف دوسرے بھائی (بڑے چچا) کو الگ کرنے کے لیے ہوئی تھی نہ کے میرے لیے. اس لیےوہ میرے والد صاحب کے جائیداد میں برابر کے حق کا دعویٰ کرتا ہے.حالانکہ وہ باپ دادا کی زمین اور گھر کی تقسیم جو کہ ١٩٨٧ میں ہوئی تھی اس کو تسلیم کرتے ہیں. ٣) اگرچچا کا میرے والد صاحب کی کمائی ہوئی جائیداد میں حصّہ نہیں بنتا لیکن پھر بھی وہ ان کو نقد پیسہ دیتا ہو جیسا کہ اوپرفیصلہ میں طے ہوا تھا توکیا اسطرح وہ ہمارا یعنی بچوں کا حق اپنےبھائی کو نہیں دےرہے؟ یا کہ وہ اپنے مرضی کے مالک ہیں جس کو دے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس میں بچوں کی کوئی حق تلفی نہیں اور کیا ایسا کرنا انکا احسان شمار ہو گا ؟ ٤) چچا کا یہ دعوا کہاں تک درست ہے کہ انھوں نے اپنے پیسے والد صاحب کے پیسوں میں ہی شامل رکھے رہنے دیے اور الگ نہیں کیے اور اس دعوے کو وہ کیسے ثابت کریں گے کیوں کہ اس کےعلاوہ تو کسی کو نہیں پتا کہ اس نے اپنے حصّے کے پیسوں کا کیا کیا. البتہ یہ ہے کہ چچا نےفوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد جو پیسہ لیا تھا اس کو اگر کبھی خرچ کیا تویہ ذکر کیا کہ یہ میرے پنشن کا پیسہ ہے اور نہ ہی ان پیسوں سے آج تلک والد صاحب کو کچھ دیا. براہ مہربانی مفتی صاحب ہمارے اس پرانےمعاملے کو حل کرنے میں شریعت کی رو سے ہماری مدد اور رہنمائی فرمائیں. تاکہ ہم سب اس قطعہ رحمی اور حق تلفی کی سلوک سے ہمیشہ کیلیے نجات حاصل کر سکیں جس کا ہم گزشتہ ١٠ سال سے مرتکب ہیں. مفتی صاحب! بہت سارے تفصیلات لکھنے پر معذرت چاہتا ہوں لیکن چونکہ مسلہ بہت پیچیدہ ہے اسلیے عرض کر دیے. الله آپ کو اجر عظیم عطا کریں. آمین.. فقط ولایت شاہ جنوبی وزیرستان ایجنسی پاکستان

    سوال: اسلام علیکم ! جناب مفتی صاحب ہمارے والد صاحب کے دو بھائ ہیں یعنی کے کل ٣ بھائ ہیں. میرے والد صاحب ان میں سب سے بڑے ہیں . میرے دادا کا انتقال ١٩٧١ میں ہوا تھا اور ورثے میں صرف دو گھر اور تھوڑا سا سامان چھوڑ گئے تھے- میرے والد صاحب اور دو چچا اس وقت سب اکھٹے رہ رہے تھے- دونوں چاچے فوج میں نوکری کرتے تھے- اور ولد صاحب گھر پر ہوتے تھے- کچھ عرصہ بعد میرے بڑے چچا فوج سے واپس آ گئے اور گھر پر رہنے لگے لہٰذا میرے والد صاحب ١٩٧٧ میں روزگار کی تلاش میں دبئی چلے گئے. ١٩٨٧ میں بڑے چچا نے والد صاحب کو کہا کہ مجھے حساب کتاب دو میں الگ ہونا چاہتا ہوں- لہٰذا دادا صاحب کی جائیداد کو بشمول اسکے جو میرے والد صاحب نےگزشتہ ١٠ سال میں کمایا تھا تین برابر حصّوں میں تقسیم کیا. دونو مکانوں کی قیمت لگائ گئی ایک مکان بڑے چچا کو ملا جو الگ ہونا چاہ رہا تھا اور دوسرا مکان میرے والد صاحب کو جبکہ چھوٹے چچا کو مکان کے پیسے ملے . نقد رقم بھی تینوں میں برابر تقسیم ہوئی اوراسی وقت ہر ایک کو اپنا حصہ الگ کر کے دے دیا گیا. اب چونکہ چھوٹے چچا کے پاس الگ سے مکان نہیں تھا اور گھر میں کوئی اور بڑا نہیں تھا اس لیے کہ اس وقت ہم سب چھوٹے تھے چنانچہ والد صاحب نے چھوٹے چچا کو کہا کہ آپ فوج کی نوکری چھوڑ دو اور گھر پر رہنا شروع کر دو تاکہ اپنے اورمیرے بچوں کا دیکھ بھال کر سکو اور کمائی جو میں کرتا ہوں اس کو اکھٹے کھائیں گے. لہٰذا چھوٹے چچا فوج چھوڑکر گھرآ گئے اور گھر پر رہنا شروع کر دیا. والد صاحب کماتے تھے اور چچا صاحب اپنی مرضی کے مطابق اپنےبچوں اور ہم پر خرچ کرتے تھے. اور ان پیسوں سے کاروبار بھی کرتے تھے. المختصر یہ کہ وہ ان پیسوں کو اپنا سمجھ کر خرچ کرتےرہے. انھوں نے ان پیسوں سے١٩٩٢میں شہر میں ایک ٢ کنال کا پلاٹ لیا. اور پلاٹ کانتقال اپنے نام پر کر دیا اور ١٩٩٧ میں والد صاحب کی مرضی سے ٨٥ کنال زمین خریدی جس میں ١٥ کنال بڑے چچا کے نام پر لکھ دی کیونکہ اس نے نقد پیسہ دیا تھا اوربقیہ ٧٠ کنال ٣٥ ٣٥ کنال اپنے اور میرے والد صاحب کے نام پر لکھ دی. ٢٠٠٠ میں والد صاحب ریٹائرڈ ہو کر پاکستان واپس آ گئے. چچا کی فیملی پہلے ہی سے شہر میں رہ رہی تھی ایک کرایے کے مکان میں جس کو بعد میں والد صاحب نے خرید کر اس کو دے دیا تاکہ وہ اس میں رہ سکے لیکن بدقسمتی سے جب والد صاحب نے زمین پر اپنے لیے مکان بنانا شروع کیا تو اس دوران دونوں بھائیوں کے درمیان اختلافات پیدا ہویے اور بڑھتے بڑھتے ناراضگی میں تبدیل ہو گئے. اور یوں چھوٹے چچا نے مزید اکھٹے رہنے سے معذرت کر لی. والد صاحب سے کہنے لگے کہ میرے ساتھ حساب کتاب کرو میں مزید آپ کے ساتھ شریک نہیں رہنا چاہتا جس پر والد صاحب نے کہا کہ میں نے تو آپ کو ١٩٨٧ میں علیحدہ کر دیا تھا. جبکہ چچا کا کہنا ہے کہ چونکہ آپ نے اس وقت مجھے زبانی نہیں کہا تھا کہ آج سے ہم تم الگ الگ. اس لیے میرے ساتھ دوبارہ حساب کرنا ہوگا. حالانکہ انکو ان کے باپ کا حصہ پہلے ہی مل چکا ہے اور ساتھ میں نقد پیسہ بھی لیکن چچا کہتے ہیں کہ وہ پیسے جو مجھے اس وقت ملے تھے میں نے آپ کے یعنی کا والد صاحب کے پیسوں کے ساتھ اکھٹے رکھ دئیے تھے میں نے الگ نہیں کیے تھے جس کا صحیح علم تو صرف الله اور چچا ہی کو ہے کیوں کہ سارا حساب کتاب اس کے ہاتھ میں ہوتا تھا. جب یہ سب کچھ ہوا تو گاوں کے بڑے اور معززین اکھٹے ہویے اور بلاخر والد صاحب کو ایک بار پھر اس پر مجبور کردیا کہ چچا کے ساتھ دوبارہ اس سب جائیداد کا بٹوارہ کر دیں جو انھوں نے ١٩٨٧کے بعد کمائی تھی. چنانچہ باپ دادا کی زمین اور گھر وغیرہ کی جو تقسیم ١٩٨٧ میں ہوئی تھی اس کو برقرار رکھتے ہویے نئی جائیداد کو ایک بار پھر دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گیا بشمول ٧٠ کنال زمین کے. لیکن چونکہ یہ فیصلہ والد صاحب کو منظور نہ تھا اس لیے مسلہ وہیں کا وہیں رہ گیا. اور تعلقات مزید خراب ہو گئے یہاں تک کہ علیک سلیک اور آنا جانا بند ہو گیا. پھر مختلف اوقات میں مختلف لوگوں نے دونوں کے درمیان فیصلہ کرانے کے لیے بہت ساری کوششیں کیں لیکن ناکام رہے اوربلاخر٢٠٠٨ میں ایک بار پھر ایک جرگہ بنا جس میں باہمی رضامندگی سے یہ فیصلہ طے ہوا کہ ٧٠ کنال زمین والد صاحب کودے دی گئی اور جو نقد رقم کاروبار میں تھی جو کہ تقریبآ ٨ لاکھ پاکستانی روپےہیں وہ اور دو کنال پلاٹ جس پر ایک گھربھی تعمیر ہوا ہے وہ چھوٹے چچا کودے دیا گیا. باقی گھر کا سامان سارا آدھا آدھا تقسیم ہوا. اب چونکہ زمین آدھی چچا کہ نام پر تھی پس یوں فیصلہ ہوا کہ چچا پہلے گاوں جا کر وہاں سے گھر کا جتنا سامان اس کے حصّے کا بنتا ہے وہ اٹھا لایے گا اور واپس آ کر وہ زمین کے کاغذات ولد صاحب کے حوالے کر دے گا اور چچا کو کاروبار میں جو پیسہ ہے وہ نام کر دیا جائے گا. لیکن بدقسمتی سے چچا گاوں سے تو اپنا سارا سامان اٹھا کر لےآیے اور ایک اور معاملا کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر زمین کے کاغذات دینے سے انکاری ہو گئے. جس مسلہ کو بنیاد بنا کر چچا صاحب نے فیصلہ سے روگردانی کی وہ ١٩٨٧ کی تقسیم شدہ باپ داد کی زمین تھی جو کہ ایک پہاڑی کی شکل میں ہے جس کا ایک حصّہ والد صاحب کا ہے اور ایک چچا کا. اب چچاکہتا ہے کہ جو حصّہ والد صاحب کا ہے وہ میرا ہے جبکہ والد صاحب کہتے ہیں کہ نہیں یہ جھوٹ ہے یہ حصّہ میرا ہی ہے. جن لوگوں نے یہ تقسیم کی تھی ان میں سے ایک جو ان کےماموں تھے وہ تو اب اس دنیا میں نہیں ہیں البتہ دو بندے ابھی تک زندہ ہیں. جن میں ایک تو بڑے چچا ہیں اور ایک اور عزیز ہیں مگر وہ دونوں صحیح بات کرنے سے قاصر ہیں- عزیز کی بات کو چچا تسلیم نہیں کرتے اور بڑے چچا سچ سچ کہنے سے کتراتے ہیں- اور معاملا ایک بار پھر ویسے کا ویسا رہ گیا. اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ ١) کیا چچا کا میرے والد صاحب کی جائیداد میں (جو انھوں نے خود بنائی ہے) حصّہ بنتا ہے یا نہیں؟ شریعت میں اس کی کیاحیثیت ہے؟ ٢) کیا چچا کا یہ دعویٰ درست ہے کہ چونکہ مجھے زبانی نہیں بتایا گیا تھا کہ آج سے تم الگ ہواور ١٩٨٧ سےمیں ایک گھر میں آپ لوگوں کے ساتھ شریک رہا ہوں بلکہ میں توالگ ہوا ہی نہیں کیونکہ جو تقسیم ١٩٨٧ میں ہوئی تھی وہ تو صرف دوسرے بھائی (بڑے چچا) کو الگ کرنے کے لیے ہوئی تھی نہ کے میرے لیے. اس لیےوہ میرے والد صاحب کے جائیداد میں برابر کے حق کا دعویٰ کرتا ہے.حالانکہ وہ باپ دادا کی زمین اور گھر کی تقسیم جو کہ ١٩٨٧ میں ہوئی تھی اس کو تسلیم کرتے ہیں. ٣) اگرچچا کا میرے والد صاحب کی کمائی ہوئی جائیداد میں حصّہ نہیں بنتا لیکن پھر بھی وہ ان کو نقد پیسہ دیتا ہو جیسا کہ اوپرفیصلہ میں طے ہوا تھا توکیا اسطرح وہ ہمارا یعنی بچوں کا حق اپنےبھائی کو نہیں دےرہے؟ یا کہ وہ اپنے مرضی کے مالک ہیں جس کو دے کوئی فرق نہیں پڑتا اور اس میں بچوں کی کوئی حق تلفی نہیں اور کیا ایسا کرنا انکا احسان شمار ہو گا ؟ ٤) چچا کا یہ دعوا کہاں تک درست ہے کہ انھوں نے اپنے پیسے والد صاحب کے پیسوں میں ہی شامل رکھے رہنے دیے اور الگ نہیں کیے اور اس دعوے کو وہ کیسے ثابت کریں گے کیوں کہ اس کےعلاوہ تو کسی کو نہیں پتا کہ اس نے اپنے حصّے کے پیسوں کا کیا کیا. البتہ یہ ہے کہ چچا نےفوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد جو پیسہ لیا تھا اس کو اگر کبھی خرچ کیا تویہ ذکر کیا کہ یہ میرے پنشن کا پیسہ ہے اور نہ ہی ان پیسوں سے آج تلک والد صاحب کو کچھ دیا. براہ مہربانی مفتی صاحب ہمارے اس پرانےمعاملے کو حل کرنے میں شریعت کی رو سے ہماری مدد اور رہنمائی فرمائیں. تاکہ ہم سب اس قطعہ رحمی اور حق تلفی کی سلوک سے ہمیشہ کیلیے نجات حاصل کر سکیں جس کا ہم گزشتہ ١٠ سال سے مرتکب ہیں. مفتی صاحب! بہت سارے تفصیلات لکھنے پر معذرت چاہتا ہوں لیکن چونکہ مسلہ بہت پیچیدہ ہے اسلیے عرض کر دیے. الله آپ کو اجر عظیم عطا کریں. آمین.. فقط ولایت شاہ جنوبی وزیرستان ایجنسی پاکستان

    جواب نمبر: 26157

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 1576=1193-10/1431

    آپ کے دادا نے ۱۹۸۷ء میں تقسیم کرکے اپنے تینوں بیٹیوں کو جو کچھ دے کر ہرایک کا قبضہ کرادیا تو ہرایک لڑکا اپنے اپنے حصہ کا مالک ہوگیا جو چچا کو دیا اس کے مالک چچا ہوئے جو والد کو دیا اس کے مالک والد ہوئے، اب جو نزاع اس بات میں پیدا ہوا کہ کس کو کیا دیا تھا، اس کا فیصلہ مقامی شہادت سے ہوسکے گا یا پھر باہمی تصفیہ سے۔
    (۱) آپ کے والد نے تنہا جو کچھ کمایا وہ اکیلے اس کے مالک ہوئے، مگر چچا کو دیتے وقت انھوں نے ایسی کوئی صراحت نہیں کی کہ کس نیت سے دے رہے ہیں؟ بطور ہبہ کے یا اپنی کمائی میں بطور وکیل تصرف کرنے کے لیے؟ یا چچا اس میں اپنی محنت اور رقم لگاکر بطور شرکت کاروبار کریں زمین وغیرہ خریدیں دونوں کے بچوں کے اخراجات اٹھائیں، یہاں بظاہر یہی صورت متعین معلوم ہوتی ہے، اس لیے اس صورت میں حکم شرکت کا ہوگا اور جب منافع وغیرہ کی تقسیم کی شرح طے نہیں تھی تو برابر برابر تقسیم ہوگی۔ یا پھر تصفیہ کا طریقہ بھی اختیار کرسکتے ہیں۔
    (۳) شرکت کے مطابق تقسیم کرنے میں یا تصفیہ وتراخی سے دینے میں بچوں کی حق تلفی شرعاً نہیں ہوگی کیونکہ والد اور چچا کا حق اور حصہ (معاملہ گول مول رہنے کی وجہ سے) شرعاً متعین اور معلوم نہیں ہے۔
    (۴) چچا کا دعویٰ محتاج ثبوت ہے، لیکن ان کا یہ کہنا کہ اپنے والد سے ملی رقم اور رٹائر منٹ سے ملی رقم بھی میں نے بھائی کی رقم کے ساتھ ملاکر خرچ کیا بالکل نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہتر ہے کہ معاملہ فہم چند اشخاص جن میں دو ایک علمائے کرام بھی ہوں کے درمیان پوری صورت حال رکھ کر معاملات واملاک کا تصفیہ کرلیا جائے کیونکہ حقوق کی تعیین کے لیے ہرہرجز کے ثبوت اور شواہد درکار ہوں گے وہ آپ لوگوں کے پاس موجود نہیں تو کسی فریق کے یک طرفہ قول سے دوسرے کے خلاف اس کے حق کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ 


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند