• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 2585

    عنوان:

    عمر کا انتقال ہوگیا، پسماندگان میں اس کی بیوی، تین بیٹے ( سبھی ۱۳سال سے کم عمر ) ایک ماں، ایک باپ، پانچ بھائی ، تین بہنیں اور ایک ماں جس نے اس کو لے پالک بنایاور اس کے بھائی اور اس کی بہن کے ذریعہ اس کی پرورش بھی کی۔ عمر کی کچھ منتقلہ اور کچھ غیر منتقلہ جائداد بھی ہیں، جس کی قیمت کا ابھی کوئی اندازہ نہیں لگایا گیاہے۔ اس نے اپنی بیوی کو تحفے میں کچھ زیوارت اور تھوڑی جائداد بھی دی ہے (جیساکہ شوہر اپنی بیویوں کو دیا کرتے ہیں) بینک میں دونوں (بیو ی اور مرحو م شوہر ) کا ایک مشترکہ اکاؤنٹ بھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عمر کی جائداد کے اصل وارثین کون ہیں؟ ہر وارث کا کتنا حصہ ہوگا؟کیا اس کی بیوی کے زیوارت اور پروپرٹی کو بھی وارثوں میں تقسیم کئے جائیں گے؟ براہ کر م، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    سوال:

    عمر کا انتقال ہوگیا، پسماندگان میں اس کی بیوی، تین بیٹے ( سبھی ۱۳سال سے کم عمر ) ایک ماں، ایک باپ، پانچ بھائی ، تین بہنیں اور ایک ماں جس نے اس کو لے پالک بنایاور اس کے بھائی اور اس کی بہن کے ذریعہ اس کی پرورش بھی کی۔ عمر کی کچھ منتقلہ اور کچھ غیر منتقلہ جائداد بھی ہیں، جس کی قیمت کا ابھی کوئی اندازہ نہیں لگایا گیاہے۔ اس نے اپنی بیوی کو تحفے میں کچھ زیوارت اور تھوڑی جائداد بھی دی ہے (جیساکہ شوہر اپنی بیویوں کو دیا کرتے ہیں) بینک میں دونوں (بیو ی اور مرحو م شوہر ) کا ایک مشترکہ اکاؤنٹ بھی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ عمر کی جائداد کے اصل وارثین کون ہیں؟ ہر وارث کا کتنا حصہ ہوگا؟کیا اس کی بیوی کے زیوارت اور پروپرٹی کو بھی وارثوں میں تقسیم کئے جائیں گے؟ براہ کر م، قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 2585

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 7/ ل= 7/ ل

     

    مرحوم شوہر نے جو زیورات و جائداد بیوی کو دے کر اس کا مالک بنادیا تھا، وہ بیوی کی ملک ہوگئی اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی، اس کے علاوہ مرحوم کی جملہ جائداد اسی طرح وہ اکاوٴنٹ جوزوجین کے درمیان مشترک تھے اور شوہر نے رقم نکالنے کی سہولت کے لیے اس میں بیوی کا نام ڈال دیا تھا، اس رقم کو بیوی کے نام کرکے اس کا مالک نہیں بنایا تھا، وہ تمام مرحوم کا ترکہ شمار ہوں گے جو اس کے ورثاء شرعی کے درمیان حسب حصص شرعیہ تقسیم کیے جائیں گے۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا افراد ہی ہیں، تو مرحوم کے وارث شرعی اس کی بیوی، باپ، ماں اور تینوں بیٹے ہوں گے، بھائی بہنیں اور وہ ماں جس نے اس کو لے پالک بنایا ہے وہ سب اس کے ترکہ سے مرحوم ہوں گے اور تقسیم کی شکل یہ ہوگی کہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی الارث ورفع موان مرحوم کے ترکہ کو ۲۷/ حصوں میں تقسیم کرکے ۹/ حصے بیوی کو ۱۲، ۱۲ حصے والدین میں سے ہرایک کو اور ۱۳، ۱۳ حصے لڑکوں میں سے ہرایک کو دیئے جائیں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند