• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 2581

    عنوان:

    میں اپنی فیملی یعنی بیوی، تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے درمیان اپنی جائداد تقسیم کرنے کے لیے وصیت لکھنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، مجھے تقسیم وراثت کا طریقہ بتائیں۔ (۲) میں بینک سے سود کے بغیر ایک کار خریدنا چاہتا ہوں، براہ کرم، اس بارے میں مجھے مشورہ دیں۔

    سوال:

    میں اپنی فیملی یعنی بیوی، تین بیٹیوں اور ایک بیٹے کے درمیان اپنی جائداد تقسیم کرنے کے لیے وصیت لکھنا چاہتا ہوں۔ براہ کرم، مجھے تقسیم وراثت کا طریقہ بتائیں۔

    (۲) میں بینک سے سود کے بغیر ایک کار خریدنا چاہتا ہوں، براہ کرم، اس بارے میں مجھے مشورہ دیں۔

    جواب نمبر: 2581

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 745/ ل= 729/ ل

     

    (۱) وارث کے لیے وصیت نہیں ہوتی اس لیے اس کے لکھنے کی ضرورت بھی نہیں، آپ کی وفات کے وقت اگر مذکورہ بالا افراد زندہ رہتے ہیں تو خود ہی وراثت ان کی طرف منتقل ہوجائے گی، اور اگر مذکورہ بالا افراد آپ کی وفات کے وقت زندہ رہتے ہیں بشرطیکہ آپ کے والدین نہ ہوں، تو ان کے درمیان وراثت اس طرح تقسیم کی جائے گی کہ تمام اموال و جائداد کے ۴/ حصے کرکے ۵/ حصے بیوی کو ۱۴/حصے لڑکے کو اور سات سات حصے لڑکیوں میں سے ہرایک کو دیئے جائیں گے۔

    (۲) آپ بینک سے اس طرح معاملہ کریں کہ بینک جس قدر سود لیتا ہے وہ اصل قیمت میں شامل کردے، مثلاً کار کی قیمت ایک لاکھ ہے اور بینک اس پر دس ہزار سود لیتا ہے تو بینک یہ کہے کہ میں نے اس کار کو ایک لاکھ دس ہزار میں آپ سے فروخت کیا اور آپ اس پر راضی ہوجائیں اور جس طرح ادائیگی طے ہوجائے اس اعتبار سے آپ ادا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند