• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 24578

    عنوان: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دی، ہندہ کے ایک بیٹے اور دو شادی شدہ بیٹیاں ہیں، اس نے بکر سے شادی کرلی، جس کی بیوی کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا ، بکر اپنے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ اپنے گھر میں رتا تھا ، دوسری شادی کے بعدپہلی بیوی کے بچوں کے ذریعہ کے پیدا کئے گئے جھگڑے کی وجہ سے وہ اپنی بیوی ہندہ کے ساتھ اس کے گھر میں رہنے لگا۔ 
    12/ اگست ک2009 ہندہ کا انتقال ہوگیا ،اس کے انتقال کے 9/ مہینے کے بعدسے بکرپھر اپنی پہلی بیوی کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہا ہے۔ کسی وجہ سے ہندہ کا بیٹا دوسرے شہر میں منتقل ہونے کے لیے اپنا گھر بیچ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس گھر کے پیسے گھر کے تمام افراد (سوتیلے باپ، ایک بیٹے، اور دو شادی شدہ بیٹیوں ) کے درمیان میں تقسیم ہوں گے؟ یا اس کا بیٹا پیسے تقسیم کئے بغیر گھر خرید سکتاہے؟(میرا مطلب یہ ہے کہ کیا سوتیلے باپ دوسری بیوی (ہندہ ) کی جائداد کے قانونی وارث ہوں گے یا نہیں؟ جو اس کے بیٹے ساتھ نہیں رہتاہے) ۔ 
     اگروہ قانونی وارث ہے تو براہ کرم، بتائیں کہ شوہر، ایک بیٹا، دو شادی شدہ بیٹیوں کے درمیان جائداد کو کس طرح تقسیم کریں گے؟
     ہندہ کی سرکاری ملازمت تھی اور اپنی زندگی میں اس نے اپنے پرائیویٹ فنڈ صرف اپنے بیٹے کے نام کردی تھی اور انشورنس کے پیسے اپنے دوسرے شوہر(بکر) اور اپنیبیٹے کے نام کردی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیسے شریعت کے مطابق تقسیم کئے جائیں گے یا ہندہ نے اپنی زندگی میں جو تقسیم کی تھی ، وہ کافی ہے ؟ 
    گریٹیوٹی اینڈ ایرئیرز ( خدمات پر انعام، اور پیسے جو اداہونے ہیں) بھی اپنے بیٹے اوراپنے شوہر کے نام کردی تھی، چونکہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہوچکی تھی اوروہ میکے نہیں آتی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیسے بھی جو حکومت کی طرف سے شوہر اور بیٹے کو دئیے جائیں گے، شریعت کے مطابق ہوں گے یا نہیں؟ اگر یہ پیسے گھر کے تمام افراد کے درمیان تقسیم ہوں گے تو بکر ، ہندہ کے ایک بیٹے اور دو شادی شدہ بیٹیوں کے درمیان کس طرح تقسیم کئے جائیں گے؟

    سوال: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دی، ہندہ کے ایک بیٹے اور دو شادی شدہ بیٹیاں ہیں، اس نے بکر سے شادی کرلی، جس کی بیوی کا انتقال پہلے ہی ہوچکا تھا ، بکر اپنے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ اپنے گھر میں رتا تھا ، دوسری شادی کے بعدپہلی بیوی کے بچوں کے ذریعہ کے پیدا کئے گئے جھگڑے کی وجہ سے وہ اپنی بیوی ہندہ کے ساتھ اس کے گھر میں رہنے 12/ اگست ک2009 ہندہ کا انتقال ہوگیا ،اس کے انتقال کے 9/ مہینے کے بعدسے بکرپھر اپنی پہلی بیوی کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہا ہے۔ کسی وجہ سے ہندہ کا بیٹا دوسرے شہر میں منتقل ہونے کے لیے اپنا گھر بیچ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس گھر کے پیسے گھر کے تمام افراد (سوتیلے باپ، ایک بیٹے، اور دو شادی شدہ بیٹیوں ) کے درمیان میں تقسیم ہوں گے؟ یا اس کا بیٹا پیسے تقسیم کئے بغیر گھر خرید سکتاہے؟(میرا مطلب یہ ہے کہ کیا سوتیلے باپ دوسری بیوی (ہندہ ) کی جائداد کے قانونی وارث ہوں گے یا نہیں؟ جو اس کے بیٹے ساتھ نہیں رہتاہے) ۔
     اگروہ قانونی وارث ہے تو براہ کرم، بتائیں کہ شوہر، ایک بیٹا، دو شادی شدہ بیٹیوں کے درمیان جائداد کو کس طرح تقسیم کریں گے؟
     ہندہ کی سرکاری ملازمت تھی اور اپنی زندگی میں اس نے اپنے پرائیویٹ فنڈ صرف اپنے بیٹے کے نام کردی تھی اور انشورنس کے پیسے اپنے دوسرے شوہر(بکر) اور اپنیبیٹے کے نام کردی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیسے شریعت کے مطابق تقسیم کئے جائیں گے یا ہندہ نے اپنی زندگی میں جو تقسیم کی تھی ، وہ کافی ہے ؟
    گریٹیوٹی اینڈ ایرئیرز ( خدمات پر انعام، اور پیسے جو اداہونے ہیں) بھی اپنے بیٹے اوراپنے شوہر کے نام کردی تھی، چونکہ دونوں بیٹیوں کی شادی ہوچکی تھی اوروہ میکے نہیں آتی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ پیسے بھی جو حکومت کی طرف سے شوہر اور بیٹے کو دئیے جائیں گے، شریعت کے مطابق ہوں گے یا نہیں؟ اگر یہ پیسے گھر کے تمام افراد کے درمیان تقسیم ہوں گے تو بکر ، ہندہ کے ایک بیٹے اور دو شادی شدہ بیٹیوں کے درمیان کس طرح تقسیم کئے جائیں گے؟

    لگا۔ 

    جواب نمبر: 24578

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 2294=791-10/1431

    ہندہ مرحومہ کے ترکہ کا حکم یہ ہے کہ بعد ادائے حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہ مرحومہ کا کل مال متروکہ سولہ حصوں پر تقسیم کرکے چار حصے مرحومہ کے شوہر (بکر) کو اور چھ حصے مرحومہ کے بیٹے کو اور تین تین حصے مرحومہ کی دونوں بیٹیوں کو ملیں گے، بکر کی زوجہٴ اولی مرحومہ کے بطن سے جو ایک اور بیٹی ہے، وہ دونوں ہندہ مرحومہ کے ترکہ میں کسی حصہ کے حقدار نہیں ہیں۔ ہندہ مرحومہ کا لڑکا جو مکان فروخت کررہا ہے، اگر اس کا مالک لڑکا ہی ہے تب تو فروخت کرنے کا حق بھی اس کو ہے، اگر وہ مکان ہندہ مرحومہ کا ہے تو قبل از تقسیم بیچنے کا لڑکے کو حق نہیں بعد تقسیم جو اپنے حصہ میں مکان آئے گا اس میں اختیار ہوگا پراویڈنٹ فنڈ اور انشورنس بیٹے اور شوہر (بکر) کے نام کردینے سے کیا مراد ہے؟ اگر صرف کاغذات میں وارث اور ذمہ دار ہونے کے تعلق سے نام لکھایا تھا، تو وہ دونوں مالک نہ ہوئے بلکہ وہ بھی ہندہ مرحومہ کا ترکہ شمار ہوگا، اگر نام کردینے کی کچھ اور نوعیت ہو تو پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ معلوم کرلیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند