• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 21020

    عنوان:

    حضرت میں اپنا وصیت نامہ لکھنا چاہتا ہوں، کیوں کہ ایک اللہ والے سے سنا کہ ہروقت موت کے لیے تیار رہو۔ میرے دو چھوٹے نابالغ بچے ہیں، والد، والدہ حیات نہیں ہیں، صرف ایک شادی شدہ بہن ہے۔ مہربانی فرماکر بتادیجئے کہ بیوی ، بچوں اور کس کس کو اور کس حساب سے وراثت تقسیم ہوگی، اور میں کیسے وصیت لکھوں؟

    سوال:

    حضرت میں اپنا وصیت نامہ لکھنا چاہتا ہوں، کیوں کہ ایک اللہ والے سے سنا کہ ہروقت موت کے لیے تیار رہو۔ میرے دو چھوٹے نابالغ بچے ہیں، والد، والدہ حیات نہیں ہیں، صرف ایک شادی شدہ بہن ہے۔ مہربانی فرماکر بتادیجئے کہ بیوی ، بچوں اور کس کس کو اور کس حساب سے وراثت تقسیم ہوگی، اور میں کیسے وصیت لکھوں؟

    جواب نمبر: 21020

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م): 452=452-4/1431

     

    وصیت وارث کے حق میں درست نہیں ہوتی، اللہ تعالیٰ نے ورثہ کا حصہ متعین فرمادیا ہے، اس لیے کسی وارث کے حق میں وصیت شرعاً لغو اور باطل ہے، جب تک آپ باحیات ہیں، آپ کو اپنی ملکیت میں ہرطرح کے تصرف کا اختیار ہے، اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جائداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہیں تو اس کا بھی حق ہے اور اور اس میں مساوات (برابری کرنا) افضل ہے، البتہ میراث کی تقسیم مُورث کے مرنے کے بعد ہوتی ہے، لہٰذا انتقال سے پہلے کسی وارث کا کتنا حصہ ہے اس کو حتمی طور پر نہیں لکھا جاسکتا، اور نہ آپ کو اپنے انتقال سے پہلے اس کو متعین کرنے کا اختیار ہے۔ ہاں ایک تہائی مال میں شریعت نے وصیت کی اجازت دی ہے، لیکن یہ وصیت شرعی وارث کے علاوہ کے لیے ہوگی، کس وارث کا کتنا حصہ آپ کے ترکے میں ہوگا یہ وارثین آپ کے انتقال کے بعد ورثہ کی تفصیل لکھ کر معلوم کرلیں گے۔ وصیت نامہ لکھ کر رکھنا اچھی بات ہے اس کا طریقہ ہے کہ مثلاً آپ اپنے تہائی مال میں کسی غریب کے لیے یا کسی مدرسہ یا مسجد کے لیے کچھ رقم وصیت کرنا چاہتے ہیں تو وصیت نامہ میں یہ لکھ کر رکھیں کہ ?میرے انتقال کے بعد اتنی رقم فلاں شخص کو یا فلاں مسجد یا مدرسہ کو دیدی جائے? یا نماز روزوں کا فدیہ ادا کرنا باقی رہ جائے تو ورثہ کو زبانی بتلادیں کہ میرے ذمہ اتنی نمازوں یا روزوں کا فدیہ ہے، اس کو ادا کردینا? یا تحریری طور پر لکھوادیں۔ اسی طرح آپ کے ذمہ کسی کا قرض رہ جائے تو اس کو لکھ کر رکھ لیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند