• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 20355

    عنوان:

    ہم چھ بھائی ہیں ، ہمارے والد اور والدہ کا انتقال تقریبا ۲۵/ سال پہلے ہوا ہے۔ ہمارے تیسرے نمبر کے بھائی جناب امیر امین والد کے ساتھ بزنس سنبھالتے تھے اور اپنے ساتھ پانچویں نمبر کے بھائی راشد امین کو بھی رکھتے تھے ۔ والد اور والدہ کے انتقال کے بعد ان دنوں بھائیوں نے دکان ومکان کا حصہ اپنے من کے مطابق لے کر چار بھائیوں کو تھوڑا بہت دے کر الگ کر دیا۔ ہم لوگوں کے اعتراض کرنے پر دونوں بھائیوں نے کہا کہ ہم والد کے ساتھ بزنس سنبھا لتے تھے ، اس لیے ہمارا حصہ ڈبل بنتاہے، اس لیے امیر امین اور راشد امین نے ڈبل حصہ لیا جبکہ سارا بزنس والد کے ہی کا بنایا ہوا تھا۔ میں عادل امین بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں آپ اس کا جواب ڈاک کے ذریعہ ہمارے گھر کے پتہ پر ارسال کریں کہ شریعت کے حساب سے ہم بھائیوں میں کیا حصہ بنتاہے؟

    سوال:

    ہم چھ بھائی ہیں ، ہمارے والد اور والدہ کا انتقال تقریبا ۲۵/ سال پہلے ہوا ہے۔ ہمارے تیسرے نمبر کے بھائی جناب امیر امین والد کے ساتھ بزنس سنبھالتے تھے اور اپنے ساتھ پانچویں نمبر کے بھائی راشد امین کو بھی رکھتے تھے ۔ والد اور والدہ کے انتقال کے بعد ان دنوں بھائیوں نے دکان ومکان کا حصہ اپنے من کے مطابق لے کر چار بھائیوں کو تھوڑا بہت دے کر الگ کر دیا۔ ہم لوگوں کے اعتراض کرنے پر دونوں بھائیوں نے کہا کہ ہم والد کے ساتھ بزنس سنبھا لتے تھے ، اس لیے ہمارا حصہ ڈبل بنتاہے، اس لیے امیر امین اور راشد امین نے ڈبل حصہ لیا جبکہ سارا بزنس والد کے ہی کا بنایا ہوا تھا۔ میں عادل امین بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا ہوں۔ ہم امید کرتے ہیں آپ اس کا جواب ڈاک کے ذریعہ ہمارے گھر کے پتہ پر ارسال کریں کہ شریعت کے حساب سے ہم بھائیوں میں کیا حصہ بنتاہے؟

    جواب نمبر: 20355

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 437=140tl-3/1431

     

    اگر وہ دونوں بھائی آپ لوگوں کی صراحتاً یا دلالةً اجازت سے والد صاحب کے بزنس کو سنبھالے ہوئے تھے تو اس تمام بزنس (جس میں بعد کا اضافہ بھی شامل ہے) میں جملہ ورثاء برابر کے شریک ہوں گے؛ اس لیے آپ کے دونوں بھائیوں امیر امین اور راشد امین کا ڈبل حصہ لینا صحیح نہیں تھا، ان کو چاہیے کہ وہ زائد حصہ کو برابر برابر سب ورثاء میں تقسیم کردیں ورثاء اگر اپنی مرضی سے بطور حق الخدمت ان دونوں بھائیوں کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند