• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 20176

    عنوان:

    ایک عورت کے پاس کچھ زیورات تھے جو کہ اس کو اس کے والدین اور سسر ال والوں کی طرف سے اس کی شادی کے وقت رسم و رواج کے مطابق دئے گئے تھے ۔ اس کے دو لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ اس نے اپنی وفات کے پہلے ہی اس کو اپنے بچوں کے درمیان تقسیم کردیا تھا۔اس کی لڑکی کا اس کے انتقال کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس کا شوہر اس زیور پر کوئی حق رکھتا ہے اور کیا وہ اس کو فروخت کرسکتا ہے یا اس کو اپنی دوسری بیوی کو ہدیہ کرسکتا ہے، اگر ہاں، تو کس حصہ پر؟

    سوال:

    ایک عورت کے پاس کچھ زیورات تھے جو کہ اس کو اس کے والدین اور سسر ال والوں کی طرف سے اس کی شادی کے وقت رسم و رواج کے مطابق دئے گئے تھے ۔ اس کے دو لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ اس نے اپنی وفات کے پہلے ہی اس کو اپنے بچوں کے درمیان تقسیم کردیا تھا۔اس کی لڑکی کا اس کے انتقال کے بعد انتقال ہوگیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس کا شوہر اس زیور پر کوئی حق رکھتا ہے اور کیا وہ اس کو فروخت کرسکتا ہے یا اس کو اپنی دوسری بیوی کو ہدیہ کرسکتا ہے، اگر ہاں، تو کس حصہ پر؟

    جواب نمبر: 20176

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 559=437-3/1431

     

    سسرال کی طرف سے ملے ہوئے زیورات کی بھی اگر وہ عورت مرحومہ مالک تھی اور کل زیورات کو اپنی زندگی میں بدرستئ ہوش وحواس اپنی اولاد کو تقسیم کردیا تھا تو یہ تقسیم ہبہ درست ہوگئی تھی۔ اس کے بعد اس کی لڑکی مرحومہ کی وفات ہوگئی تو اس مرحومہ لڑکی کا کل زیور مثل دیگر اشیاء متروکہ کے ترکہ بن گیا جو اس مرحومہ لڑکی کے ورثہٴ شرعی کے مابین علی قدر حصصہم تقسیم ہو نا لازم ہے ۔ اور ہروارث کا کتنا حصہ ہے، یہ ورثہ کی تفصیل معلوم ہونے پر لکھا جاسکتا ہے یعنی مرحومہ لڑکی نے والدین، شوہر ،بھائیوں کے علاوہ اپنی اولاد میں سے بھی کسی کو چھوڑا تھا یا نہیں؟


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند