• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 166466

    عنوان: امی نے اپنی زندگی میں مجھے مكان ہبہ كردیا تھا كیا اس میں میرے بھائیوں كا بھی حصہ ہے؟

    سوال: میری امی نے اپنے خود کے پلاٹ پر بنی ہوئی عمارت مجھے ۱۰/ فروری ۲۰۱۳ء کو ہبہ میں دیا اور قبضہ بھی اسی دن دیدیا، تب سے اب تک وہ میرے قبضے میں ہے اور امی کا انتقال ۲۸/ جولائی ۲۰۱۳ء کو ہوگیا۔ اب میرے جو سات بھائی ہیں اس کو چھوڑنے کا دباوٴ بنا رہے ہیں، ہمارے امی ابو کی ابھی اور پراپرٹی ہے ۔ دین کی روشنی میں فتوی دیں کہ ہبہ کی خریدی ہوئی پراپرٹی میں میرے بھائیوں کا حصہ ہوگا کہ نہیں؟ اور باقی پراپرٹی کا بٹوارہ کیسے ہوگا؟

    جواب نمبر: 166466

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 268-281/B=3/1440

    آپ کی امی نے اپنے پلاٹ پر بنی ہوئی عمارت آپ کو ہبہ کی ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے دو گواہوں کی گواہی کی ضرورت ہے اگر دو گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ ہمارے سامنے آپ کی امی نے آپ کو یہ عمارت ہبہ کی ہے اور ہبہ کرکے آپ کے قبضہ و دخل میں دے دیا ہے۔ اور خود امی اس عمارت سے دستبردار ہوگئی ہیں۔ تو پھر یہ عمارت آپ کی ملکیت ہوگی۔ اس میں آپ کے بھائیوں کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ اور اگر اس کے گواہ نہیں ہیں اور دیگر وارثین تسلیم نہیں کرتے ہیں صحیح معلومات کی بنیاد پر تو یہ عمارت آپ کی ملکیت نہ ہوئی بلکہ ترکہ بن کر آپ کو اور آپ کے دیگر بھائیوں کو وراثت میں تقسیم ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند