• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 164268

    عنوان: دادا کی جائداد میں یتیم پوتے کا حصّہ

    سوال: میرے والدِ کا انتقال 2003 میں ہوا ہے اور میرے ایک چچا ہیں دو پھوپھی ہیں شادی سب کی ہو گئی ہے اور میرے پانچ بھائی ہیں اور دو بہن ہیں اور قریب 30کڑی زمین ہے ، میرے دادا بول رہے ہیں آدھے میں تم سب بھائی بنوا لو مگر ایک بھائی کو ہم الگ کرنا چاہتے ہیں اور دادا سے بولتے ہیں کہ ہم کو جو کچھ دینا ہے لکھ دیں تاکہ ہم لوگ اسکا حصہ الگ کرسکیں مگر لکھنے کو تیار نہیں ہیں بولتے ہیں لکھنا کیا ہے اسی میں بنوا لو اور میرے چچا بھی دادا سے کئی بار بول چوکے ہیں مگر بول رہے ہیں لکھنا کیا ہے آدھا آدھا کرلو اور میرے چچا بولتے ہیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تم لوگوں جدھر کا چاہئے لے لو تو کیا اگر میرے دادا بغیر لکھے انتقال کر گئے تو جائداد ہم بھائیوں کی ہو جائیگی اور ہم لوگ اس لئے کچھ بنواتے نہیں کی پتا نہیں کیا ہوگا اگر بنوالے تو دادا کے مرنے کے بعد یہ ہماری ہوگی کی نہیں اور اگر دادا کے مرنے کے بعد چچا واپس مانگیں تو انکو واپس کرنا پڑیگا اس بارے میں کیا حکم ہے ہم اس کاگھر بنوائیں کہ نہیں جبکہ دادا کی اور کوئی جائداد نہیں ہے ؟

    جواب نمبر: 164268

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1322/1204/M=12/1439

    صورت مسئولہ میں اگر دادا اپنی حیات میں آپ لوگوں (پوتوں) کو اپنی جائیداد کا آدھا حصہ دے کر اور حصہ الگ کرکے ہر ایک کو الگ الگ مالک وقابض بنادیتے ہیں یا دادا کی اجازت سے ان کی ززمین پر آپ لوگ گھر بنواکر رہائش اختیار کرلیتے ہیں اور دادا اس پر مکمل قبضہ ودخل آپ لوگوں کو سونپ دیتے ہیں تو ایسی صورت میں لکھے بغیر بھی آپ لوگ شرعاً اتنے حصے کے مالک ہوجائیں گے جتنا حصہ دادا خود دیدیں یا ان کی اجازت سے لے کر مکان بنالیں اور بقیہ جائیداد، دادا کی ملکیت رہے گی جو ان کے انتقال کے بعد ترکہ بن جائے گی اور اگر دادا نے اپنی حیات میں آپ لوگوں کو دے کر مالک وقابض نہیں بنایا تو صرف دادا کے کہنے سے کہ ”اسی میں بنالو“ آپ لوگ مالک نہ ہوں گے اور پھر دادا کے انتقال کے بعد اگر چچا موجود رہے تو دادا کے ترکہ میں آپ بوتوں کا حصہ نہیں ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند