• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 157754

    عنوان: اولاد کے درمیان عطیہ میں کیا برابری ضروری ہے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام! باپ نے بیٹی کو شادی میں جہیز کی شکل میں ایک لاکھ روپئے دیا، بیٹے کا کہنا ہے کہ باپ کو اولاد کے درمیان برابری کرنا چاہئے ورنہ اس کے لیے حدیث میں وعید ہے یعنی جس طرح بیٹی کو گھر بسانے کے لیے ایک لاکھ دیا اسی طرح بیٹا کو تجارت اور دوکان کھولنے کے لیے ایک لاکھ دے کر اولاد کے درمیان برابری کرے۔ باپ اپنی جائیداد کو اولاد میں وراثت کے طور پر تقسیم کرنا چاہتا ہے اس لیے بیٹے کا کہنا ہے کہ باپ جائیداد بیچ کر بیٹے کو ایک لاکھ دے اس کے بعد جو بچے اس کو اولاد کے درمیان تقسیم کرے۔ شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ کیا بیٹے کا کہنا صحیح ہے؟ کیا باپ پر لازم ہے کہ بیٹے کو بھی ایک لاکھ دے؟

    جواب نمبر: 157754

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 480-497/SN=5/1439

    یہ بات سچ ہے کہ باپ اگر بچوں کو عطیہ اور گفٹ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ عدل وانصاف سے کام لے، بخاری شریف میں تعلیقًا یہ روایت آئی ہے: اعدلوا بین أولادکم في العطیّة (بخار: ۳/ ۱۵۷، ط: بیروت) لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر باپ نے بیٹوں کو کسی موقع (مثلاً شادی وغیرہ) پر اتنی موٹی رقم نہیں دی ہے تو اسے چاہیے کہ دکان وغیرہ کرنے کے لیے بیٹے کو اتنی یا کم وبیش رقم دیدے؛ تاکہ اللہ کے رسول کے اس حکم پر عمل ہوجائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند