• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 157477

    عنوان: كیا بھائی كاروبار میں لگنے سے پہلے ہونے والے منافع میں شریك ہوگا۔

    سوال: گرامی قدر مفتی صاحب سلام مسنون بعدہ عرض ہے کہ ہم ترتیب وار چار بھائی ہیں، رشید احمد سعید احمد شمیم احمد وسیم احمد ، میں سب سے بڑا ہوں ۔ ہمارے واالد کا1997 میں انتقال ہو گیا ہے ، میں نے پہلے امبروڈی (دستکاری )کا کار خانہ دالا تھا اس میں کوئی خاص آمدنی نہیں تھی، بس کھا پی کے حساب برابر ہونے ہو جاتا۔ چنانچہ میں اپنے چچا کے لڑکے شہزاد کے مشورے پرایک سال تک انکی لکڑی کی دوکان پر رہ کر لکڑی کی تجارت کا طریقہ اورکاروبارکی لائن سیکھی، اس کے بعد ایک دوکان کراے پر لیکر اللہ کے نام لکڑی کا کاروبار شروع کیا۔ واضح ہو کہ اس تجارت میں گھر اور باپ داداکی کی ملکیت سے کچھ بھی نہیں لگایا اگرکچھ مال کی ضرورت پری تو تعلقات والوں سے لیا،میرے دو بھائی سعید احمد اور شمیم احمد بھی کاروبا ر میں میرا ساتھ دیتے تھے ،البتہ شمیم احمد میرے ساتھ رہ کر برابر کاروبار میں میرا ہاتھ بٹاتا تھا تھا ، جب کہ سعید احمد کا گھر اور ممبئی آنا جا نا لگارھتا تھااور چھوٹا بھا ئی وسیم احمد جو والد محترم کے انتقال کے وقت چھ یا سات سال کا تھا وہ پڑھائی کررہا تھا، چنانچہ ساتویں کلاس تک وہ گاؤں میں پڑھا، پھر اسے ممبئی بلاکر آٹھویں کلاس میں داخلہ کرا دیا اور بار ہویں تک پڑھا کر اس کو فائر مینیجمنٹ کا کورس کرایا۔ غرض کہ 2008تک وہ پڑھائی میں لگا رہااوردوکان سے اسے کوئی مطلب نہ ررہا،2009 میں چھوٹا بھائی وسیم بھی کاروبار میں لگ گیا اور ہمارے ساتھ دوکان پر بیٹھنے لگا 2012تک اسی طرح چلتا رہا،2012میں شمیم بھائی سے کچھ اختلاف ہوا جس کی وجہ سے بس بٹوارے کی نوبت آگئی چنانچہ اس وقت کاروبارسے حاصل ہونے والی جو بھی پراپرٹی اور ملکیت تھی چاروں بھائیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، اس کے چار حصے کر کے ایک حصہ شمیم بھائی کو دے کر ان کو الگ کر دیا گیا اور باقی تین بھائیوں کے حصے مشترک رہے ۔ اب دریافت طلب بات یہ کہ وسیم بھائی کے کاروبار میں لگنے سے پہلے یعنی 2009تک حاصل ہونے والی پراپرٹی اور ملکیت میں اس کا حصہ ہے یا نہیں؟ اور 2012 میں جو بٹوارہ ہوا اور اس میں شروع سے 2012تک کی پوری پراپرٹی اور ملکیت کا جو چوتھائی حصہ اسے دیا گیا وہ صحیح ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی جواب عنایت کر کے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 157477

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:456-482/B=5/1439

    جب آپ نے والد صاحب کے انتقال کے بعد اپنی ذاتی کمائی سے لکڑی کا کاروبار شروع کیا، گھر اور باپ دادا سے لے کر کوئی پیسہ اس میں نہیں لگایا تو اس کاروبار کے تنہا آپ مالک ہوئے، سعید احمد اور شمیم احمد کام میں برابر کے شریک رہے تو یہ دونوں اجر مثل کے حق دار ہوں گے اور ۲۰۰۹ء سے چھوٹا بھائی وسیم احمد بھی کاروبار میں شریک ہوگیا تو وہ بھی صرف اجر مثل کا حق دار ہوگا، شمیم احمد کو ایک چوتھائی حصہ دے کر اسے الگ کردیا یہ بہت اچھا کیا، بھائی وسیم احمد چونکہ ۲۰۰۹ء سے کاروبار میں لگے ہیں ۲۰۰۰ء سے نہیں لگے ہیں اس وہ ۲۰۰۹ء سے ہی اجر مثل کے حق دار ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند