• متفرقات >> تاریخ و سوانح

    سوال نمبر: 611133

    عنوان:

    حضرت عمر رضی اللہ عنہ كے بارے میں زندہ درگور كی بات غلط ہے؟

    سوال:

    سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین دامت برکاتہم العالیہ۔ حضرت میرا سوال یہ ہے کہ میں جاہل بھی اللہ کے فضل سے تبلیغی جماعت سے وابستہ ہوں حضرت ہمارے یہاں کچھ وقت سے ایک بات چل رہی ہے کی کُچّھ لوگ نعوذباللہ ‌‌یہ کہتے ہیں کی حضرت عمر رضی اللہ نے اسلام قبول کرنے سے پہلے اپنی نو بیٹیاں زندہ دفن کری تھی اور یہ کی اللہ معاف کرے یو تک کہتے ہے کی لوگ اپنی بیٹی انہیں دیدیا کرتے تھے حضرت کیا یہ بات درست ہے ،حضرت اگر اس دین کے کام میں لوگ اپنی طرف سے من گھڑت روایتیں بیان کریں گے تو یہ تو بہت خطرناک ہوگا آپ تو مجھ سے بہتر جانتے ہیں، میں تو انتہائی جاہل ہو ں، حضرت اگر کوئی تبلیغی جماعت کا مخالف آ جائے اور اگر وہ یہ باتیں سن لے تو کیا ہوگا حضرت میری آپ سے عاجزانہ گذارش ہے کہ آپ فتوٰی لکھ کر کر دیں کہ ہمارے تبلیغی بھائی اس سے باز آ جائے اور اس میں میرا نام اور g.mail ID hide کر دیجئے گا اور اس فتوے کو آپ عام کروادیں ، ہر جگہ اُسے شائع کر وا دیجئے گا ۔ جزاكم الله خيرًا

    جواب نمبر: 611133

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 987-826/B=09/1443

     حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ كے متعلق یہ بات منسوب كرنا كہ انھوں نے اپنی نو بیٹیوں كو اسلام لانے سے پہلے زندہ دفن كیا ہے‏، ہماری نظر سے كسی كتاب میں نہیں گذرا‏۔ اسی طرح یہ بات كہ لوگ ان كو اپنی بیٹیاں دیدیا كرتے تھے یہ بھی واقعہ ہماری نظر سےنہیں گذرا۔ جس شخص نے یہ بیان كیا ہے اسی سے حوالہ طلب كرنا چاہئے۔ بلاتحقیق كے كوئی بات بیان نہ كرنی چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند