• متفرقات >> تاریخ و سوانح

    سوال نمبر: 2631

    عنوان:

    مسجد قبلتین کے متعلق چند سوالات: (۱) جس وقت قبلہ کی تبدیلی ہو ئی تھی تو وہ کون سے وقت کی نماز تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی۔ (۲) مقتدیوں کی کتنی صفیں تھیں؟ مردوں کے ساتھ کیا عورتیں بھی شامل بھی تھیں؟ (۳) دوران نماز تحویل قبلہ کی صورت میں امام کا اپنے مقتدیوں سے پیچھے رہ جا نا لازم آتاہے، اس کی صورت کیا بنی تھی؟ اسی نماز میں تحویل قبلہ کے بعد کس طرح نماز پوری کرائی تھی؟ کیا ہمارے نبی چل کرآگے آئے تھے؟ یا گھوم کر آگے آگئے تھے؟ اور یہ کس سال میں ہوا تھا؟

    سوال:

    مسجد قبلتین کے متعلق چند سوالات: (۱) جس وقت قبلہ کی تبدیلی ہو ئی تھی تو وہ کون سے وقت کی نماز تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی۔ (۲) مقتدیوں کی کتنی صفیں تھیں؟ مردوں کے ساتھ کیا عورتیں بھی شامل بھی تھیں؟ (۳) دوران نماز تحویل قبلہ کی صورت میں امام کا اپنے مقتدیوں سے پیچھے رہ جا نا لازم آتاہے، اس کی صورت کیا بنی تھی؟ اسی نماز میں تحویل قبلہ کے بعد کس طرح نماز پوری کرائی تھی؟ کیا ہمارے نبی چل کرآگے آئے تھے؟ یا گھوم کر آگے آگئے تھے؟ اور یہ کس سال میں ہوا تھا؟

    جواب نمبر: 2631

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 109/ ب= 100/ ب

     

    (۱) ظہر کی نماز تھی۔

    (۲) صفوں کی تعداد کا ذکر نہیں ملتا ہے، البتہ مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل تھیں۔

    (۳) امام آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھوم کر آکے تشریف لائے تھے اور نماز پوری کرائی تھی (مابقیہ دو رکعت) اس وقت تک عمل کثیر کی ممانعت کا کوئی حکم نہیں آیا تھا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند