• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 978

    عنوان:

    ہم چار آدمی ایک چھوٹے سے ریسٹورینٹ میں کام کرتے ہیں، اس میں کوئی باتھ روم نہیں ہے۔ہمارے ریسٹورینٹ کے قریب میں ایک دکان ہے جو خالی ہے ، ہمارے مالک نے اس دکان کے چوکیدار کو پیسہ دیا ہے اور اس سے کہا ہے کہ میرا اسٹاف اس دکان کے باتھ روم کو استعمال کرے گا۔ چناں چہ ہم اس دکان کے باتھ روم کو استعمال کررہے ہیں، لیکن اس دکان کے مالک کو یہ معلوم نہیں کہ ہم یہ باتھ روم استعمال کررہے ہیں۔

    سوال:

    ہم چار آدمی ایک چھوٹے سے ریسٹورینٹ میں کام کرتے ہیں، اس میں کوئی باتھ روم نہیں ہے۔ہمارے ریسٹورینٹ کے قریب میں ایک دکان ہے جو خالی ہے ، ہمارے مالک نے اس دکان کے چوکیدار کو پیسہ دیا ہے اور اس سے کہا ہے کہ میرا اسٹاف اس دکان کے باتھ روم کو استعمال کرے گا۔ چناں چہ ہم اس دکان کے باتھ روم کو استعمال کررہے ہیں، لیکن اس دکان کے مالک کو یہ معلوم نہیں کہ ہم یہ باتھ روم استعمال کررہے ہیں۔ دکان مالک نے اس ددکان کو کسی کے ہاتھ فروخت کردیا ہے اور خریدار نے کچھ رقم بھی ادا کردی ہے۔ لہٰذا آپ سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس دکان میں نماز ادا کرسکتے ہیں؟وہاں کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں؟ کیا ہم ایسے ریسٹورینٹ میں کام کرسکتے ہیں جہاں غسل و نماز کی مناسب جگہ نہ ہو؟ ہم مسجد میں نماز ادا نہیں کرسکتے ، مسجد یہاں سے دس منٹ کی دوری پر ہے۔

    جواب نمبر: 978

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  1017/هـ = 762/هـ)

     

    (1) بغیر اجازتِ مالک بیت الخلا کا استعمال کرنا درست نہیں، نماز ادا کرلینے میں مضائقہ نہیں کہ عامة اس کی اجازت ہر مسلمان بلکہ غیر مسلم کی طرف سے بھی دلالة ہوتی ہے اور اگر بیت الخلا پانی نماز وغیرہ کی صراحةً اجازت حاصل کرلیں تو سب کچھ بلا کراہت درست ہوجائے گا۔ اور اب دوکان کا مالک وہ ہے کہ جس نے اس کو خرید لیا ہے۔

     

    (2) ایسے ریسٹورینٹ میں کام کرنے کی اجازت ہے بشرطیکہ غسل نماز وغیرہ میں کوتاہی کا موجب نہ ہو، نماز کے لیے مالک ریسٹورینٹ سے صاف معاملہ طے کریں کہ ہم کو اوقات ملازمت میں سے اس قدر وقت نماز کے لیے چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند