• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 8735

    عنوان:

    میں ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہوں۔ اسکول میں کمرہ بنوانے کے لیے کچھ رقم آتی ہے اسی رقم میں اس کو پورا کرنا ہوتا ہے، رقم گھٹنے پر سرکار ذمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ جب کہ ٹھیک کسی کو معلوم نہیں کہ کتنا صرفہ آئے گا۔ تو مہنگائی کودیکھتے ہوئے اگر سامان کم نہ کیا جائے تو کمرہ پورا ہونا ممکن نہیں،کیوں کہ تخمینہ جوبن کر آتا ہے اس میں سامان کا دام مثلاً سریا کا دام 24/روپیہ فی کلو لکھا ہے اورمارکیٹ میں اس کی قیمت 45/روپیہ فی کلو ہے تو لامحالہ سریا کم کریں گے تبھی پورا ہوگا۔ ایسی صورت میں اندازے سے ہی بنوانا پڑتاہے کیوں کہ رقم گھٹنے پر سرکار ذمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ تو بڑھنے پر رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس رقم کو کیا کیا جائے، مطلع فرمائیں؟

    سوال:

    میں ایک سرکاری اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہوں۔ اسکول میں کمرہ بنوانے کے لیے کچھ رقم آتی ہے اسی رقم میں اس کو پورا کرنا ہوتا ہے، رقم گھٹنے پر سرکار ذمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ جب کہ ٹھیک کسی کو معلوم نہیں کہ کتنا صرفہ آئے گا۔ تو مہنگائی کودیکھتے ہوئے اگر سامان کم نہ کیا جائے تو کمرہ پورا ہونا ممکن نہیں،کیوں کہ تخمینہ جوبن کر آتا ہے اس میں سامان کا دام مثلاً سریا کا دام 24/روپیہ فی کلو لکھا ہے اورمارکیٹ میں اس کی قیمت 45/روپیہ فی کلو ہے تو لامحالہ سریا کم کریں گے تبھی پورا ہوگا۔ ایسی صورت میں اندازے سے ہی بنوانا پڑتاہے کیوں کہ رقم گھٹنے پر سرکار ذمہ دار نہیں ہوتی ہے۔ تو بڑھنے پر رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس رقم کو کیا کیا جائے، مطلع فرمائیں؟

    جواب نمبر: 8735

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1449=1216/ ل

     

    صریح دھوکہ دہی کے بغیر اگر کچھ رقم بچ جائے تو اس کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر دھوکہ دے کر رقم بچائی گئی تو اس کا استعمال ناجائز ہوگا، ایسی صورت میں اس رقم کو سرکار تک کسی طرح پہنچائی جائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس رقم کو اسکول کے کسی کام میں صرف کردی جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند