• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 7191

    عنوان:

    مسلمانوں کے درمیان موجود ذات برادری کے سسٹم کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس کے بارے میں قرآن اور حدیث میں کیا کہا گیا ہے؟ کیا اس پر عمل کرنا درست ہے؟ ان لوگوں کے بارے میں کیا فتوی ہے جو کہ ذات برادری کے سسٹم پر بہت سختی سے عمل پیرا ہیں؟

    سوال:

    مسلمانوں کے درمیان موجود ذات برادری کے سسٹم کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس کے بارے میں قرآن اور حدیث میں کیا کہا گیا ہے؟ کیا اس پر عمل کرنا درست ہے؟ ان لوگوں کے بارے میں کیا فتوی ہے جو کہ ذات برادری کے سسٹم پر بہت سختی سے عمل پیرا ہیں؟

    جواب نمبر: 7191

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1046/930/ ل

     

    جہاں تک افضلیت وبڑائی کا تعلق ہے تو حسب ونسب سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، قرآن شریف میں ہے: اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو، اور حدیث شریف میں ہے: جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا ہو تو اس کا نسب اس کو آگے نہیں بڑھاسکتا۔ البتہ نکاح میں ایک خاص مقصد کے لیے اس کی رعایت کی جاتی ہے تاکہ زوجین میں ہم آہنگی ہو اور تعلق زن وشوئی مدت مدیدہ تک باقی رہ سکے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند