• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 69806

    عنوان: شادی کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے سے لمبی مدت تک دور رہنا ہرگز مناسب نہیں

    سوال: میری شادی کو تین سال ہوگئے ہیں، اور میں سعودی میں رہتا ہوں شادی کے چھ مہینے بعد میری بیوی حمل سے ہوگئی، جب حمل کو ۹/ مہینہ ہوئے تو میری بیوی نے مجھے بتایا کہ یہ بچہ میرا نہیں ہے، لیکن اس نے مجھ سے بہت منت سماجت کی کہ مجھے معاف کردو، اُس پر میں نے کہا کہ یہ جس کی بھی اولاد ہے تم اس سے شادی کرلو، لیکن وہ شادی کے لیے راضی نہیں ہوئی، اس کے بعد مجھے پتا چلا کہ یہ بچہ اس کے پہلے شوہر کا ہے جس نے اسے طلاق دیدی تھی، پہلے میرے سعودی آنے کے بعد اس نے اس آدمی کے ساتھ ناجائز طریقے سے ہمبستری کی اور اس کے نتیجہ میں یہ اولاد پیدا ہوگئی، اب مسئلہ یہ ہے کہ میں اگر طلاق دوں تو اس کا کوئی نہیں ہے، ماں باپ نے اسے گھر سے بے دخل کردیا ہے اور وہ دوبارہ اس آدمی سے شادی کے لیے تیار بھی نہیں ہے۔ ایسے حالات میں مجھے کیا کرنا چاہئے بتائیں؟ اگر وہ میرے نکاح میں رہتی ہے تو اس بچہ کے لیے میرے اوپر کیا حقوق انسانی ہے؟ اور میری وراثت میں اس بچہ کا کیا حق ہے؟ اور اس بچہ کا حلالہ کس طرح کیا جائے؟ برائے مہربانی مجھے بتائیں۔

    جواب نمبر: 69806

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1362-1372/N=1/1438 (۱): بیوی کے ناجائز تعلقات میں کسی درجے میں آپ بھی قصور وار ہیں؛ کیوں کہ جس دور سے ہم گذررہے ہیں، یہ نہایت پر فتن دور ہے ، آج کل شادی کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے سے لمبی مدت تک دور رہنا ہرگز مناسب نہیں؛ اس لیے آپ کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ آپ بیوی کو اپنے ساتھ دمام لے کر جائیں یا وطن ہی میں کوئی جائز ومناسب ذریعہ معاش اختیار کریں۔ اور آپ اپنی بیوی کو رضائے الٰہی کے لیے معاف کردیں اور اسے اپنے زندگی سے علیحدہ نہ کریں،آخرت میں انشاء اللہ آپ کو اس پر بہت اجر وثواب ملے گا۔ (۲): صورت مسئولہ میں آپ کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ شرعاً آپ ہی کا بچہ کہلائے گا، محض عورت کے اقرار کی وجہ سے اس بچہ کا نسب آپ سے ختم نہ ہوگا؛ کیوں کہ عورت آپ کی فراش ہے اور حدیث میں ہے کہ بچہ فراش والے کا ہوتا ہے(مشکوة شریف ص ۲۸۷، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)؛ اس لیے آپ اس بچہ کو اپنا ہی بچہ سمجھیں اور اس کے ساتھ بیٹے جیسا برتاوٴ کریں۔ (۳): جی! ہاں، جب یہ بچہ شرعاً آپ ہی کا بچہ ہے تو آپ کے انتقال پر آپ کا وارث بھی ہوگا۔ (۴): یہ بچہ از روئے شرع حرامی نہیں ہے، جائز وحلالی ہے جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا؛ لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند