• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 69738

    عنوان: جاندار مخلوق کا ڈائگرام(نقشہ/خاکہ) بنانا ؟

    سوال: میرا بھائی میڈیکل کا طالب ہے، اس کو کاپیوں اور امتحانات میں اعضاء اور جاندار مخلوق کا ڈائگرام(نقشہ/خاکہ) بنانا پڑتاہے توکیا یہ اس کے لیے جائز ہے؟

    جواب نمبر: 69738

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1075-1039/Sd=1/1438

     مکمل تصویر کے بغیر انسانی اعضاء کا الگ الگ خاکہ بنانا جائز ہے ؛ البتہ سر کے ساتھ تصویر بنانا جائز نہیں ہے اور جاندار مخلوق کا ڈائگرام بنانا، جس میں اعضاء کے ساتھ سر کا بھی نقشہ بنایا جائے ؛ جائز نہیں ہے ، ایسا سبجیکٹ نہیں لینا چاہیے جس میں جاندار کی تصویر بنانا لازم ہو۔ عن عبد اللّٰہ ابن مسعود رضی اللّٰہ عنہ قال: سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: إن أشد الناس عذابًا عند اللّٰہ یوم القیامة المصورون۔ (صحیح البخاری، کتاب اللباس / باب عذاب المصورین یوم القیامة ۸۸۰/۲ رقم: ۵۹۵۰ دار الفکر بیروت، صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینة / باب تحریم تصویر صورة الحیوان الخ ۲۰۰/۲ رقم: ۲۱۰۹ بیت الأفکار الدولیة، مشکاة المصابیح ۳۸۵) ظاہر کلام النووی فی شرح مسلم: الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان۔ (شامی، کتاب الصلاة / باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، مطلب إذا تردد الحکم بین سنة وبدعة ۴۱۶/۲ زکریا، ۶۴۷/۱ دار الفکر بیروت، وکذا فی فتح الباری ۳۸۴/۱۰) قال أصحابنا وغیرہم من العلماء: تصویر صور الحیوان حرامٌ شدید التحریم وہو من الکبائر؛ لأنہ متوعد علیہ بہٰذا الوعید الشدید المذکور فی الأحادیث، یعنی مثل ما فی الصحیحین عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أشد الناس عذابًا یوم القیامة المصورون، یقال لہم أحیوا ما خلقتم … وسواء کان فی ثوب أو بساطٍ أو درہم ودینارٍ وفلس وإناءٍ وحائطٍ وغیرہا، فینبغی أن یکون حرامًا لا مکروہًا إن ثبت الإجماع أو قطیعة الدلیل لتواترہ۔ (البحر الرائق، کتاب الصلاة / باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا ۴۸/۲ زکریا) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند