• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 69358

    عنوان: ڈپوزٹ دے كر كرایہ كم دینا

    سوال: (1)میں دو سال کے لیے پندرہ لاکھ روپئے میں اپنا فلیٹ ڈپوزٹ میں دینا چاہتاہوں اور دو سال کے بعد جب کرائے دار فلیٹ خالی کردے گا تومیں یہ رقم اس کو واپس کردوں گا۔ براہ کرم، مشورہ دیں کہ کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے ؟ (2)نیز بتائیں کہ کیا میں اس رقم کو سرماکاری میں استعمال کرسکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 69358

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1102-1083/SN=12/1437

    (۱) سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ پندرہ لاکھ روپئے بطور ”ڈپوزٹ“ آپ کو دینے کے بعد کرایہ دار یا تو بلا معاوضہ (کرایہ) اس میں رہے گا (یا بہت معمولی کرایہ ادا کرے گا) اگر واقعہ بھی یہی ہو تو آپ کا اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، یہ قرض سے انتفاع کی شکل ہے، جسے حدیث میں ”سود“ قرار دیا گیا ہے، کل قرض جَرَّ منفعة فہو ربا (مصنف عبد الرزاق)۔
    (۲) مباح کاروبار میں شرکت یا مضاربت کے طور پر اپنے مال کی سرمایہ کاری کرنا بلا شبہ جائز ہے، آپ بھی اس رقم کی مذکورہ بالا طریقے پر ”سرمایہ کاری“ کر سکتے ہیں۔
    نوٹ: اگر آپ کے سامنے ”سرمایہ کاری“ کی کو ئی خاص صورت ہے تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند