• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 67802

    عنوان: کیا یہ قول کہ ”مشت زنی سے اچھا ہے کہ زنا کرلے“ صحیح ہے؟

    سوال: میں غیر شادی شدہ ھوں اور میری عمر 25 سال ہے اور میرے بڑے بھائی بہن کی ابھی تک میرے والد نے شادیاں نہیں کی ہیں ،باربار بولنے کے باوجود وہ تاخیر کر رہے ہیں اور کئی مرتبہ میں نے اپنے والدین کو گالیاں تک دی ہیں اور میری اس نافرنی کی وجہ سے شرمندہ ہوکر میرا نفس مجھے کبھی مشت زنی کرواتا ہے جس کی اب مجھے عادت یعنی لت لگ چکی ہے اورمیں نے ایک عالم سے سنا ہے کہ مشت زنی سے اچھا ہے کہ انسان زنا کرلے ۔ کیا مجھے شریعت اپنے ماں باپ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے زنا یا مشت زنی کی اجازت دیتی ہے ؟ میں اپنی خواہشات پر قابو نہیں رکھ پا رہا، اس کے لیے میں نے روزے بھی رکھے ہیں۔

    جواب نمبر: 67802

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1131-1120/H=11-1437 یہ قول غلط ہے کہ ”مشت زنی سے اچھا زنا ہے“ دونوں ہی حرکتیں اور بدفعلیاں ناجائز ہیں زنا بڑا حرام ہے دونوں ہی سے بچنا واجب ہے اور صورت مسئولہ میں اگر والد صاحب شادی آپ کی نہیں کرا پا رہے ہیں اور آپ کوئی مناسب رشتہ تلاش کرکے نکاح کرلیں تو کچھ مضائقہ نہیں ہے جب تک نکاح نہ ہوسکے اس وقت تک روزے کثرت سے رکھیں نظر قلب اور تمام اعضاء کی حفاظت کریں گناہوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں تقویٰ طہارت کو لازم پکڑیں بُری صحبت سے بچیں اور متقی پرہیزگار نیک لوگوں کے پاس اٹھنا بیٹھنا رکھیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند