• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 64586

    عنوان: کیا ساؤنڈ سسٹم کا کاروبار جائز ہے ؟

    سوال: کیا ساؤنڈ سسٹم کا کاروبار جائز ہے ؟ جبکہ کرایہ پر دیتے وقت یہ معلوم نہ ہوسکے کہ کون سے حضرات اسکا صحیح جبکہ کون سے ممنوع اور ناجائز استعمال کرینگے . کیا ایسی صورت میں اسکا کاروبار شرعاً جائز ہوگا؟ نیز حدود اور شرائط بھی واضح فرمائیں۔ جزاکم اللّٰہُ خیر

    جواب نمبر: 64586

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 356-356/Sd=6/1437 ساوٴنڈ سسٹم کو کرایہ پر دینا جائز ہے؛ البتہ اگر کرایہ پر لینے والے کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ اس کا نا جائز استعمال کرے گا، تو اس کو ساوٴنڈ سسٹم کرایہ پر دینا مکروہ ہے ۔ ( جواہر الفقہ:۲/۴۴۱،۴۴۲، تفصیل الکلام في مسئلة الاعانة علی الحرام، ط: تفسیر القرآن، عارف کمپنی، دیوبند ، وکذا في رد المحتار : ۹/۵۶۱، فصل في البیع، ط: زکریا، دیوبند، و بدائع الصنائع:۴/۳۳۷، کتاب البیوع، ط: زکریا، دیوبند ) وفي ہامش فتاوی عثماني: والضابط عندہم ( عند فقہاء الحنفیة ) أن کل ما فیہ منفعة تحل شرعاً؛ فان بیعہ یجوز؛ لأن الأعیان خلقت لمنفعة الانسان۔ ( فتاوی عثمانی مع ہامشہ: ۳/۸۴، نعیمیہ، دیوبند )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند