• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 62380

    عنوان: حضرت اگر میں کسی دوست کو یا جاننے والے کو مارکیٹ سے کوئی چیز خرید کر دوں یا اسے اپنے کسی جاننے والے دکاندار کے پاس بھیج کر کوئی چیز دلاؤں اور اس پر میں اپنا کمیشن متعین کروں دکاندار کے ساتھ تو کیا یہ کمیشن میرے لیے جائز ہے؟

    سوال: (۱) حضرت اگر میں کسی دوست کو یا جاننے والے کو مارکیٹ سے کوئی چیز خرید کر دوں یا اسے اپنے کسی جاننے والے دکاندار کے پاس بھیج کر کوئی چیز دلاؤں اور اس پر میں اپنا کمیشن متعین کروں دکاندار کے ساتھ تو کیا یہ کمیشن میرے لیے جائز ہے؟ (۲) اگر مجھے کوئی جاننے والا 1000روپئے دے اور کہے کہ فلاں چیز میرے لیے خرید کر لے آؤ، اور میں وہ چیز میں اپنے تعلقات کی وجہ سے 800روپئے کی خرید کر دیدوں تو کیا 200روپئے میرے لیے استعمال کرنا جائز ہوگا؟ یا مجھے اس کو واپس کرنے ہوں گے جس شخص نے مجھے 1000روپئے دیئے تھے، (اس میں دو صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک تو مجھے 1000روپئے دے گا کیوں کہ وہ چیز تھی ہی 1000روپئے کے اور اس کو پتا ہے ، اب یہ کمیشن نہیں رکھے گا اپنا، اور دوسری صورت یہ ہے کہ اسے پتا ہے کہ یہ چیز مارکیٹ میں 1000روپئے کی ہے ، لیکن یہ بندہ اپنے تعلقات پر کی وجہ سے سستے خرید کر کمیشن رکھے گا )ان دو صورتوں میں رہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ

    جواب نمبر: 62380

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 149-136/Sn=2/1437-U (۱) ”دلالی“ پر استحقاقِ اجرت (یا کمیشن) کے لیے ضروری ہے کہ ”دلال“ یعنی کمیشن لینے والے کی طرف سے محنت ومشقت کا کوئی عمل پایا جائے، کسی دوست یا شناسا کو کسی دکان کا پتہ بتلادینا یا اس کی طرف رہنمائی کردینا استحقاقِ اجرت کے لیے کافی نہیں ہے؛ لہٰذ صورتِ مسئولہ میں آپ کے لیے دکاندار سے کمیشن لینا جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہاں آپ کی طرف سے کوئی ایسا عمل نہیں پایا گیا جس پر اجرت کا استحقاق ہوسکے۔ (مستفاد از درمختار مع الشامی: ۹/ ۱۳۰، ط: زکریا، درر الحکام شرح مجلة الاحکام: ۱/ ۵۰۲، ط: دار الجیل) (۲) پہلی صورت میں تو بہرحال دوسوروپئے اس شخص کو لوٹانا واجب ہے جس نے آپ کو سامان خریدنے کے لیے کہا تھا؛ البتہ دوسری صورت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر آپ کا پیشہ یہی ہے کہ آپ دوسروں کا سامان خریدکر دیتے ہیں اور اس پر کمیشن لیتے ہیں تو آپ کے لیے سامان خریدوانے والے سے رقم لینا جائز ہے؛ لیکن اس کے لیے متعینہ رقم یا فیصد کے اعتبار سے طے ہونا ضروری ہے، طے نہ ہونے کی صورت میں بچی ہوئی پوری رقم، رقم دینے والے کو لوٹانا ضروری ہے؛ ہاں آپ اس سے ”اجرتِ مثلی“ کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند