• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 62354

    عنوان: کیا مقرر کے لیے پیسہ لینا جائز ہے ؟ تشفی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی۔

    سوال: کیا مقرر کے لیے پیسہ لینا جائز ہے ؟ تشفی بخش جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں عین نوازش ہو گی۔

    جواب نمبر: 62354

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 45-45/M=2/1437-U تقریر کرنے والا تقریر کرنے کے بعد جو روپئے لیتا ہے وہ اگر بطور ہدیہ کچھ لوگ بطِیب خاطر دیں، تو ان کے لینے میں کچھ مضائقہ نہیں، اسی طرح ملازمت کے طور پر مقرر کو اگر کچھ دیا جائے اور متعین کردیا جائے کہ مثلاً روزانہ یا ہفتہ میں ا یک گھنٹہ وعظ کہنا ہوگا اور یہ تنخواہ ہوگی، تو اس طرح کا اجارہ بھی درست ہے؛ لیکن یہ طریقہ پسندیدہ نہیں کہ بلا تعیین کے مقرر کہیں تقریر کرکے روپیہ لے اور اپنے انداز سے کم ہونے پر ناراضگی اور خفگی کا اظہار کرے اس سے وعظ کا اثر بھی ختم ہوجاتا ہے اور بلانے والے بھی رسم کے طور پر بلاتے ہیں۔ اور اعلیٰ مقام یہ ہے کہ متعین یا غیرمتعین طور پر کچھ بھی نہ لیا جائے بلکہ حسبة للہ وعظ کہا جائے وہ ان شاء اللہ زیادہ موٴثر ہوگا۔ لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعلیم القرآن والفقہ) ویفتی الیوم بصحتہا لتعلیم القرآن والفقہ والإمامة والأذان. وزاد بعضہم الأذان والإقامة والوعظ (الدر مع الرد: ۹/ ۷۶/ زکریا) والحیلةُ أن یستأجرَ المعلِّمُ مدَّةً معلومةً ثمَّ یأمرہ بتعلیم ولَدہ (البزازیة علی ہامش الہندیة: ۵/۳۸، زکریا) (مستفاد: محمودیہ: ۱۷/ ۹۰، دار المعارف دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند