• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 609428

    عنوان: ایکسپائر ٹکٹ سے سفر کرنے کا حکم۔ (۲): کم درجے کی ٹرین سے سفر کرکے فرق کے بہ قدر پیسوں سے بلا ٹکٹ سفر کرنا

    سوال:

    امید ہے کہ بخیر و عافیت ہوں گے سوال کے دو جزء ہیں؛ (1) مثلاً ہم نے آج کا ٹکٹ لیا تھا اور سفر نہیں کرسکا تو کیا آئندہ کل اسی ٹکٹ سے سفر کرسکتاہوں حلانکہ حکومت کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے اور میں نے حکومت کو پیسے تو دے دئے لیکن ابھی اس سے سفر نہیں کیا۔

    (2) میں نے ایکسپریس کا ٹکٹ لیا جس کی قیمت 35روپیہ تھی اور میل سے سفر کیا جس کی قیمت 15روپیہ تھی تو اب میرے 20 روپیہ حکومت کے پاس رہ گئے اور میں نے آئندہ کل میل سے جس کا ٹکٹ 15روپیہ ہے بلا ٹکٹ کے سفر کرلیا تو کیا یہ صورت جائز ہے؟

    جواب مرحمت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 609428

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 489-425/H-Mulhaqa=8/1443

     

    (۱، ۲): آج کا ٹکٹ لے کر آپ نے حکومت سے جس درجے کی ٹرین یا بس کی سیٹ کی کرایہ داری کا معاملہ کیا ہے، آپ کو حکومت کی جانب سے اس سے سفر کرنے کا مکمل اختیار دیا گیا اور تخلیہ بھی کیا گیا ؛ لیکن آپ نے از خودسفرنہیں کیا ؛ لہٰذا آج کا دن گذرجانے پر کرایہ داری کا معاملہ مکمل ہوگیا، اب آپ کے لیے اسی ٹکٹ سے کل آیندہ سفر کرنا جائز نہ ہوگا، اسی طرح دوسری صورت میں آپ نے جس درجے کی ٹرین کا ٹکٹ لیا ہے، حکومت نے آپ کو اس سے سفر کرنے کا مکمل اختیار دیا تھا اور تخلیہ بھی کردیا تھا، آپ نے اپنی مرضی سے کم درجے کی ٹرین کا سفر کیا؛ لہٰذا دونوں کے درمیان پیسوں کا جو فرق ہو، اس کے بہ قدر آپ کے لیے بلا ٹکٹ سفر کرنا جائز نہ ہوگا۔

    وکما یجب الأجر باستیفاء المنافع یجب بالتمکن من استیفاء المنافع إذا کانت الإجارة حتی إن المستأجر دارا أو حانوتاً مدة معلومة ولم یسکن فیھا في تلک المدة مع تمکنہ من ذلک تجب الأجرة کذا في المحیط (الفتاوی الھندیة، کتاب الإجارة، الباب الثاني في بیان أنہ متی تجب الأجرة وما یتعلق بہ من الملک وغیرہ، ۴: ۴۱۳، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔

    )فیجب الأجر لدار قبضت ولم تسکن) لوجود تمکنہ من الانتفاع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الإجارة، ۹: ۱۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    قولہ: ”لدار قبضت“: أي: خالیة من الموانع (رد المحتار)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند