• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 606033

    عنوان: کمپنی اونر سے چھپاکر سواری بٹھانا اور پیسہ خود رکھ لینا 

    سوال:

    ایک شخص زید ہے۔ جو کہ ایک ٹراویلس کمپنی میں اکاؤنٹ لکھتا ہے ۔ کمپنی اونر نے تنخواہ 15 ہزار ماہانہ مقرر کی ہے۔اور یہ روزآنہ دو سے تین سیٹ خود کے تعلقات والوں کو بغیر آفس میں انٹری دکھاے کے سفر کراتا ہے جہاں سے گاڑی بھرتے ہیں اُس سے تھوڑا آگے سے یہ لوگوں کو بٹھاتا ہے ۔ جسکا اونر کو علم نہیں لگنے پاتا اور یہ دو تین لوگوں سے آن لائن پیسہ خود کے بینک میں جمع کرلیتا ہے ہے پے ٹی ایم،فون پے وغیرہ کے ذریعے۔ اسطرح دو ہزار روپے روز کے بچا لیتا ہے۔ اونر کی بیس گاڑیاں چلتی ہے اسے اتنا پتہ نہیں چلنے پاتا۔آفس اکاؤنٹ میں انٹری یہ بتائی ہوئی رہتی ہے کہ سیٹ خالی گء کوئی پیسنجر آیا ہی نہیں تھا۔لیکن حقیقت اسکے بر خلاف ہے ۔اونر بھی مسلم ہے ۔مہینہ کے 60-65 ہزار کی اسکے جیب میں جانے کے بجائے زید کی جیب میں جارہے ہیں ۔اب یہ تو چوری ہی ہے ۔ تو اسکی وعید دنیا اور آخرت میں کیا آئینگی۔ 2) زید کو بکر نے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ غلط ہے ، تو زید کہتا ہے کہ اونر نے بھی دس کی مونڈیاں مارا ہونگا(نقصان پہنچایا ہونگا) جب اتنا کامیاب ہوا ۔ اور اسطرح اپنے دل کو تسکین دیتا ہے ۔ 3)زید لون لے کر عالیشان گھر بھی بنا رہا ہے ۔ ادائیگی یہ 60-65 ہزار میں سے ہو رہی ہے ۔ لون لینا غلط ہے کہا جائے تو کہتا ہے کی ۔ بلا سود ی قرض تم دلا دو ، اب اتنا 13-14 لاکھ بلا سودی تو کہیں سے ممکن نہیں ہوتا ، تو کہتا ہے پیسے نہیں دلا سکتے تو حرام حلال مت کرو ۔ اللّٰہ کو ہم بول دیں گے کہ کہیں سے ہماری ضرورت کو پیسہ بلا سودی نہیں ملا تو سودی لیا ۔ ایک صاحب مسلم دیندار ومالدار تین لاکھ بلا سودی دینے کو تیار تھے ۔ مگر یہ آفیشل 15 ہزار مہینہ کماتا ہے ۔ تو انہوں پیچھے ہٹ گئے،کی اتنی رقم یہ ڈھنگ سے واپس نہیں کرپاےٴ گا ۔ اتنی خطیر آمدنی ۔ اب زید مولانا سے بھی خفا رہتا ہے ۔ پیسہ نہیں دیا کہہ کر۔ اور ضد پر لون اٹھا رہا ہے ۔ تو کیا اس طرح خود کو کامیاب کرنے کے لیے ایسے راستے اپنانا درست ہے ، نہیں تو مالِ نجس کی کیا وعیدیں اور نکبتیں ہیں، تفصیل سے لکھیے ، مذکورہ بالا زید کے اعمال شرعی طور پر کتنے قابل گرفت ہیں؟ اور زید کی اصلاح کے لیے کیا طریقِ کار اپنایا جائے؟

    جواب نمبر: 606033

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 26-26/D=01/1443

     (۱) کمپنی اونر سے چھپاکر سواری بٹھانا اور پیسہ خود رکھ لینا چوری، خیانت، دھوکہ، جھوٹ وغیرہ حرام امور کو شامل ہے اور یہ سب باتیں گناہ کبیرہ اور ا ن کا اختیار کرنا حرام ہے۔ ایسے گناہ بدون توبہ کے اور اصحاب حقوق کے حقوق ادا کئے معاف نہیں ہوتے۔

    (۲) زید کا یہ جواب کل قیامت میں علام الغیوب کے سامنے نہ چل سکے گا اور مذکورہ گناہوں کی جو سزا ہے وہ بھگتنی پڑے گی۔ ہر شخص اپنے عمل کی سزا بھگتے گا۔

    (۳) لون لینے میں سود کی ادائیگی کرنی ہوگی، اور سود کا لینا دینا دونوں حرام ہے۔ حدیث میں لعنت بھیجی گئی ہے۔ عن جابر قال لعن رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدہ وقال ہم سواء۔ (مشکاة، ص: 244)۔

    عن ابن عباس من نبت لحمہ من السحت فالنار اولیٰ بہ۔ (مشکاة، ص: 246)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند