• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 605481

    عنوان:

    کسی دوسرے سے اپنا پیپر، ٹیسٹ وغیرہ لکھوانا؟

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ آج کل پڑھائی آن لائن ہے ۔ تو لو گ اپنے پیپر ، ٹیسٹ اور گھر کا کام لوگوں سے کرواتے ہیں اور جمع کروا دیتے ہیں۔ تا کہ ان کے اچھے نمبر آ سکیں۔ کیا اس طرح کسی کا پیپر، ٹیسٹ یا گھر کا کام کر کے پیسے لینا جائز ہے یا نہیں؟ راہنمائی فرمائیں۔ شکریہ۔

    جواب نمبر: 605481

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:844-156T/N=12/1442

     کسی دوسرے سے اپنا پیپر، ٹیسٹ وغیرہ لکھوانا، پھر اسے اپنے نام سے جمع کردینا ، یہ بلا شبہ جھوٹ اور دھوکہ دہی ہے ، جو اسلام میں حرام ہے ، اور جو لوگ کسی دوسرے کو اس کا پیپر یا ٹیسٹ وغیرہ لکھ کر دیتے ہیں ، وہ ناجائز وحرام کام میں اس کا تعاون کرتے ہیں اوراسلام میں ایساتعاون بھی ناجائز ہے اور اس پر پیسوں کا لین دین بھی درست نہ ہوگا۔

    عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ”إذا کذب العبد تباعد عنہ الملَکُ میلاً من نتن ما جاء بہ إلخ“ (سنن الترمذي، رقم: ۱۹۷۲)۔

    عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”… إیاکم والکذب؛ فإن الکذب یہدي إلی الفجور، وإن الفجور یہدي إلی النار، وما یزال الرجل یکذِبُ ویتحریَّ الکذبَ حتی یُکتَب عند اللّٰہ کَذَّابًا“(الصحیح لمسلم، کتاب البر والصلة، باب قُبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ، ۲:۳۳۶، رقم: ۲۶۰۷ط:بیت الأفکار الدولیة، وسنن الترمذي، أبواب البر والصلة، باب ما جاء في الصدق والکذب، ۲:۸)۔

    عن أبي ہریرة رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مرَّ علی صبرةٍ من طعام، فأدخل یدہ فیہا، فنالت أصابعہ بللاً، فقال: ”یا صاحب الطعام ما ہٰذا؟“ قال: أصابتہ الماء یا رسول اللّٰہ! قال: ”أفلا جعلتہ فوق الطعام حتی یراہ الناس؟“ ثم قال: ”من غش فلیس منا“ (سنن الترمذي،أبواب البیوع،باب ما جاء في کراہیة الغش في البیوع، ۱:۴۵، رقم الحدیث: ۱۳۱۵)۔

    لافرق بین الکذب بالکتابة أو التکلم (تکملة رد المحتار، کتاب الشھادات، باب القبول وعدمہ، ۱: ۱۵۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند نقلاً عن البزازیة)۔

    عن أسماء قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ”المتشبع بما لم یعط کلابس ثوبي زور“ (الصحیح للبخاري، کتاب النکاح، باب المتشبع بما لم ینل وما ینھی من افتخار الضرة، ص: ۷۸۵، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند، الصحیح لمسلم، کتاب الآداب والزینة، باب النھي عن التزویر فی اللباس وغیرہ والتشبع بما لم یعط، ۲: ۲۰۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند، مشکاة المصابیح، ص: ۲۸۱، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    قال العلماء: معناہ المتکثر بما لیس عندہ بأن یظھر للناس أن عندہ ما لیس عندہ، یتکثر بذلک عند الناس ویتزین بالباطل فھو مذموم کما یذم من لبس ثوبي زور۔قال أبو عبید وآخرون: ھو الذي یلبس ثیاب أھل الزھد والعبادة والورع، ومقصودہ أن یظھر للناس أنہ متصف بتلک الصفة ویظھر من التخشع والزھد أکثر مما في قلبہ فھذہ ثیاب زور وریاء، وقیل: ہو کمن لبس ثوبین لغیرہ وأوہم أنھما لہ (شرح النواوي علی الصحیح لمسلم، ۲: ۲۰۶)۔

    ونقل ابن حجر أیضاً ما قال ابن عبید وآخرون في فتح الباري وقال عن الزمخشري فی الفائق: المتشبع أي المتشبہ بالشبعان ولیس بہ، واستعیر للتحلي بفضیلة لم یرزقھا، وشبہ بلا بس ثوبي زور أي: ذي زور، وھو الذي یتزیا بزي أھل الصلاح ریاء (فتح الباری، ۹: ۳۹۴، ۳۹۵، ط: دار السلام، الریاض)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند