• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 605325

    عنوان:

    جانوروں کو موٹا و فربہ کرنے کیلئے مصنوعی طریقہ اختیار کرنا كیسا ہے؟

    سوال:

    کیا فرما تے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں جانوروں کو موٹا و فربہ کرنے کیلئے مصنوعی طریقے استعمال کیا جاتا ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ سٹرائڈ، ہارمن،یوریا وغیرہ مشتمل دواء جانوروں کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے انجکشن کے ذریعہ سے اور بسا اوقات کھلایا جاتا ہے ۔اس سے جانور جلدی موٹا تازہ ہو جاتا ہے ۔لیکن اس دوا کے اثر سے کچھ مدت کے بعد جانور کا معدے ،گردے اور پھیپڑے وغیرہ خراب ہو جاتا ہے ۔ماہر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے جانوروں کے گوشت کھانے سے انسان کے جگر،پھیپڑے ،ہارٹ وغیرہ مؤثر ہوتا ہے اور بسا اوقات خراب ہو جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ(1) کیا جانوروں کو موٹا و فربہ کرنے کیلئے مصنوعی یہ طریقہ اختیار کرنا جائز ہے ؟ (2) ایسے جانوروں کو قربانی کرنے کا کیا حکم ہے ؟ (3) ایسے جانوروں کا گوشت کھانے کا کیا حکم ہے ؟

    جواب نمبر: 605325

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:811-160T/N=12/1442

     (۱ - ۳): اللہ تعالی نے ہر انسان اور جانور میں قوت مدافعت رکھی ہے، جو جسم میں پیدا ہونے والے جراثیم اور مختلف نقصان دہ چیزوں کے مضر اثرات کو ختم کرتی ہے اگرچہ یہ قوت عمر وغیرہ کے فرق سے بعض انسانوں اور جانوروں میں زیادہ اور بعض میں کم ہوتی ہے؛ اسی لیے بعض چیزیں بعض انسانوں اورجانوروں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں اور بعض کے لیے نہیں ؛لہٰذا جانوروں کی فربہی وموٹاپے کے لیے سوال میں مذکور قسم کی جو دوائیں کھلائی جاتی ہیں، یہ اگرچہ اپنی ذاتی تاثیر کی بنا پر فی نفسہ نقصان دہ ہیں؛ لیکن نفس الامر میں ان کا رزلٹ کیا ہے؟ اسے دیکھنا ضروری ہے، نیز اگر واقعی جانوروں کے معدے وغیرہ خراب ہوتے ہیں تو اس کی بھی تحقیق ضروری ہے کہ یہ انہی دواوٴں کا اثر ہوتا ہے یا کوئی دوسری وجہ ہوتی ہے؟ اسی طرح دواوٴں سے موٹے کیے گیے جانوروں کا گوشت سب یا اکثر انسانوں کو نقصان کرتا ہے یا کسی کسی کو؟ نیز جس کو نقصان کرتا ہے تو کیا اس کی وجہ یہی ہوتی ہے یا کچھ اور؟ بہر حال ان سب باتوں کی تحقیق ضروری ہے، اور جب تک ان باتوں کی تحقیق نہ ہو، ایسے جانوروں کا گوشت کھانا جائز ہوگا اور قربانی بھی درست ہوگی اگرچہ اس طرح کی دواوٴں سے بہرصورت بچنا چاہیے ، اور اگر کوئی شخص ذاتی طور پر اس طرح کے جانوروں کا گوشت کھانے اور ایسے جانوروں کی قربانی سے پرہیز کرے تو ذاتی طور پر ایسا کرنے میں کچھ گناہ نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند