• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 605108

    عنوان:

    مکان دلانے ؛پر دلالی كا پيسہ لینا

    سوال:

    اگر کوئی شخص کسی شخص کو مکان دلائے اور پھر اس سے دلالی لے تو کیا یہ جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 605108

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:976-805/L=11/1442

     اگر وہ شخص مکان دلانے میں محنت سے کام لے تو اس کے لیے اس پر مقرر مناسب اجرت لینے کی گنجائش ہوگی۔

    قال فی التتارخانیة: وفی الدلال والسمساریجب أجرالمثل، وما تواضعوا علیہ أن فی کل عشرة دنانیرکذا فذاک حرام علیہم. وفی الحاوی: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجوأنہ لابأس بہ وإن کان فی الأصل فاسدا لکثرة التعامل وکثیر من ہذا غیر جائز، فجوزوہ لحاجة الناس إلیہ کدخول الحمام وعنہ قال: رأیت ابن شجاع یقاطع نساجا ینسج لہ ثیابا فی کل سنة.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین . (رد المحتار)9/87،ط:زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند