• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 605005

    عنوان:

    خرید وفروخت كا معاملہ ختم ہونے پر كمیشن كا حكم؟

    سوال:

    میں پروپرٹی کا کام کرتاہوں، میرے پاس ایک پارٹی آئی اس کو گھر پسند آیا اور اس نے بیعانہ کے پیسے بھی دیدیئے ، وہ ہم نے وہ بیچنے والے کودیئے ، مکان کی رجسٹری ہوئی تھی پر اس نے انتقال نہیں کروایا تھا جو اس نے ابھی کروانا تھا، پارٹی کو جلدی گھر چاہئے تھا تو معاملہ کینسل ہوگیا ، بیعانہ مالک مکان سے لے کر پارٹی کو دیددیا ہم نے ان سے کمیشن نہیں مانگا ، دو ہفتے بعد پھر وہ پارٹی آئی اور دوبارہ وہی گھر کا بیعانہ دیا، پھر وہ پیسہ انتقال میں ٹائم لگنے کی وجہ سے پھر پیچھے ہٹ گئی ، اب ہم ان سے آدھی سے بھی کم کمیشن کی ڈیمانڈ کررہے ہیں وہ نہیں مان رہے ہیں ، ہم نے پیسے تقریباً سارے واپس کردیئے ، کیا اس سے آدھی سے بھی کم کمیشن کا پیسہ کاٹ سکتے ہیں؟ ایک مہینہ سے بھی زیادہ اس کے لیے بھاگ دوڑ کی، کیا یہ کٹوٹی حلال ہے یا حرام؟

    جواب نمبر: 605005

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:954-716/N=01/1443

     صورت مسئولہ میں دونوں مرتبہ اگر مکان کی خرید وفروخت کا صرف وعدہ ومعاہدہ ہوا تھا اور اس کی پختگی کے لیے بیعانہ ادا کیا گیا تھا، حقیقت میں باقاعدہ ایجاب وقبول کی شکل میں مکان کی خرید وفروخت نہیں ہوئی تھی اور دونوں مرتبہ پیسے کی منتقلی کو لے کر جب بیچ میں اڑچن آئی تو وعدہ ومعاہدہ ختم کردیا گیا تو ایسی صورت میں آپ کے لیے اپنا متعینہ پورا کمیشن یا اس کا نصف لینا درست نہیں؛ کیوں کہ پروپرٹی ایجنٹ(دلال)، حسب عرف وعادت معاملہ کی تکمیل کی صورت میں کمیشن کا حق دار ہوتا ہے، معاملہ مکمل نہ ہونے کی صورت میں وہ کمیشن کا حق دار نہیں ہوتا اگرچہ اس نے ایک مہینہ یا کم وبیش مدت تک انتھک محنت وکوشش اور دوڑ ودھوپ وغیرہ کی ہو۔

    اور اگر صورت واقعہ کچھ اور ہو تو پوری تفصیل لکھ کر دوبارہ سوال کرلیا جائے۔

    وفی النوازل: رجل قال لدلال: ”بع ضیعتي علی أن لک من الأجر کذا“، فلم یقدر ھو علی الإتمام، فباعھا دلال آخر لیس للأول شیيء، وبہ أخذ الفقیہ أبو اللیث، قال فی المحیط: وھو الاستحسان، وعلیہ الفتوی، وھذا موافق لقول أبي یوسف فیما ذکر فی العیون: رجل دفع إلی رجل ثوبا، وقال : بعہ بعشرة، فما زاد فھو بینی وبینک، قال أبو یوسف : إن باعہ بعشرة أو لم یبعہ فلا أجر لہ وإن اتعب في ذلک، وإن باعہ باثني عشر أو أکثر أو أقل فلہ أجر مثل عملہ إذا أتعب في ذلک؛ لأنہ عمل بإجارة فاسدة، فیستحق الأجر۔ قال القاضي الإمام : وھذا أصح وبہ یفتی؛لأن الأجر مقابل بالبیع دون مقدماتہ إن کان المعقود علیہ البیع دون السعي (خلاصة الفتاوی، کتاب الإجارات، الفصل الخامس فی الاستصناع والاستیجار علی العمل، ۳:۱۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔

    ﴿المادة ۵۷۷﴾:إن دوّر دلال مال، ولم یبعہ، وبعد ذلک باعہ صاحب المال، فلیس للدلال أخذ الأجرة۔ وإن باعہ دلال آخر، فلیس للأول شییٴ، والأجرة کلھا للثاني؛ لأن الدلال عادة لا یستحق الأجرة بعرض المبیع للبیع؛ بل بوقوع البیع حقیقة، وھذا استحسان مخالف للقیاس، أفتی بہ المتأخرون، واختارتہ جمعیة المجلة عملا بالعرف والعادة (شرح المجلة لسلیم رستم باز اللبناني، ۱: ۳۰۹، ط: مکتبة الاتحاد دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند