• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 604844

    عنوان:

    كیا كھال ہبہ كرنادرست ہے؟

    سوال:

    اگر کسی لکی کا کسی حالیہ میں سارا بدن جھلس جاے تو کیا اسے پلاسٹک سرجری کی اجازت ہے ؟ اگر اجازت ہے تو اسے پلاسٹک سرجری کروانے کے لیے کسی اور لڑکی کی جلد درکار ہوگی؟ تو اس صورت میں کیا سکن ڈونیشن جائز ہوگا؟

    جواب نمبر: 604844

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 893-227T/D=10/1442

     (۱) بدن جھلس جانے کی صورت میں پلاسٹک سرجری کی اجازت ہے اسی لڑکی کے جسم کے صاف حصے سے کھال لے کر سرجری کردی جائے یا پھر دوا یا دوسری تدبیر سے علاج کیا جائے۔

    (۲) کسی دوسرے انسان کی کھال سے علاج کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ انسان کو اللہ تعالی نے تمام اعضاء کے ساتھ مکرم اور قابل احترام بنایا ہے ایک انسان کے لئے دوسرے انسان کے کھال بال دانت ہڈی کسی بھی چیز کا استعمال کرنا جائز نہیں نہ ہی اس کا ڈونیشن کرنا جائز ہے نہ ہی قیمت دے کر خریدنا جائز ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ولقد کرمنا بنی آدم ہم نے اولاد آدم کو مکرم بنایا ہے۔ لقد خلفنا الانسان فی احسن تقویم (التین) ہم نے انسان کو اچھے سانچے (نقشہ) میں بنایا ہے۔ پس انسان کے اعضاء کا لین دین کرنا اس کی خریدو فروخت کرنا جائز نہیں ہے۔

    حالت اضطراری میں حرام چیز کھانے کی اجازت ہے لیکن انسان کا گوشت کھانا ایسی حالت میں بھی جان بچانے کے لئے جائز نہیں۔

    قال فی شرح السیر الکبیر: والآدمی محترم بعد موتہ علی ما کان علیہ فی حیاتہ فکما لا یجوز التداوی بشیء من الآدمی الحیّ اکراماً لہ کذالک لا یجوز التداوی بعضو المیت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: کسر عظم المیت ککسر العظم الحیّ (ج: 1/90)

    قال الشامی: قولہ شعر الانسان لا یجوز الانتفاع بہ الخ۔ وفی البدائع: ولو سقط سنّہ یکرہ ان یاخذ سنّ میت فیسدّہا مکان الاول بالاجماع وکذا یکرہ ان یعید تلک السنّ المساقطة مکانہا الخ ج: 2/536۔ (جواہر الفقہ: 7/62-63 )


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند