• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 603849

    عنوان:

    ممنوع وقت میں شكار كی گئی مچھلی كا حكم؟

    سوال:

    ایک مچھلی ہے جسے بنگلہ زبان میں 'الیش' کہتے ہیں۔ ماہرین کی ہدایت کے مطابق حکومت نے مخصوص ایام میں اس مچھلی کو شکا ر کرنے سے منع کردیتی ہے ، جبکہ اس مچھلی کا انڈا دینے اور نشو ونما کی وقت ہوتی ہے ۔ اس پابندی سے اس مچھلی کی پیداور میں کء برس سے اچھا خاصہ اضافہ بھی ہوا ، جیساکہ اخبارات سے پتہ لگتا ہے ۔ لیکن کچھ لوگ خلاف قانون اس وقت بھی مچھلی پکڑتے ہیں۔ حکومت جب ان کو پکڑتے ہیں ان سے مچھلی چھین لیتے ہیں ، پھر یتیم خانہ اور مدارس میں دیدیتے ہیں۔ اب ہمیں چند حکم دریافت کرنی ہے ۔ 1۔ ممنوع وقت میں اگر کسی نے مچھلی شکار کر لیا تو وہ اس کا مالک ہوگا یا نہیں؟ 2۔ کیا ایسا مچھلی خرید کرنا از روے شرع شریف جائز ہوگا؟ 3۔ کیا ارباب مدرسہ کیلئے حکومت سے ایسا مچھلی لینا جائز ہوگا؟ 3۔ کیا مدرسہ کے طلبہ کیلئے ایسا مچھلی کھانا جائز ہوگا؟ کیا غریب اور مالدار ہونے کی حیثیت سے ان کے حکم میں فرق ہوگا؟ اساتذہ کو ایسا مچھلی کھلانا اور کھانا جائز ہوگا؟

    جواب نمبر: 603849

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 655-611/D=09/1442

     (۱) غیر مملوکہ بڑے دریا تالاب میں از خود پیدا ہونے والی مچھلیاں عام پکڑنے والے کے لئے شرعاً مباح ہوتی ہیں لہٰذا اس کا شکار کرنے والا مالک ہوجائے گا ممنوع وقت میں کرنے والا بھی مالک ہوجائے گا؛ البتہ عزت جان مال کے نقصان کا اندیشہ ہونے کی صورت میں شکار سے احتراز کرے۔

    (۲) جائز ہے شکار کرنے والوں سے خریدنا جائز ہے۔ اور سرکاری اہلکار اگر قبضہ کرلیں تو ان سے خریدنا جائز نہیں۔

    (۳، ۴) اگر مچھلی مالکان کا پتہ نہ ہو اور حکومت کے اہلکار مدرسہ میں دیدیں تو غریب طلبہ کی نیت سے ارباب مدرسہ لے سکتے اور اسے صرف غریب مستحق زکاة طلبہ کے استعمال میں لایا جائے مالدار طلبہ اس کا استعمال نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند