• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 603595

    عنوان:

    جس كا اكثر مال حرام ہو اس كی ضیافت اور ہدیہ قبول كرنا كیسا ہے؟

    سوال:

    اگر کسی شخص کا اکثر مال یا سب مال حرام ہو اور یی حرمتِ مال یقینی ہو ، اس شخص سی قرض لینی یا اس کی ضیافت یا ہدیہ قبول کرنی یا اس شخص سی معاملات کرنی کی کیا حکم ہے ؟ یا مثلاً ایک شخص نی حربی کفار کو مال و متاع فراہم کرنی سی مال حاصل کیا ہو، اسی شخص سی مذکورہ چیزی (جیسی قرض لینا، ضیافت و ہدیہ لینا یا معاملات کرنا) کیسا ہے ؟ کیا ایک حرام مال کی نفع بی حرام ہے ؟ کیا حرام مال املاک میں تبدیل کرنی سی حلال ہوجاتا ہے ؟ کیا اسی حرام مال کو حلال میں تبدیل کرنی کی کویی شرعی راستہ یا راہ حل ہے ؟ خصوصاً جب اسی حرام مال مبتلا بہ مسئلہ بن گیاہ ہو؟ برای کرم جواب ارسال فرمائیں۔

    جواب نمبر: 603595

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:594-746/N=1/1443

     (۱)دار الحرب کے کفار کو علی الاطلاق مال فراہم کرنا حرام نہیں ہے؛ لہٰذا اس مال فراہمی سے حاصل شدہ آمدنی کو بھی علی الاطلاق حرام نہیں کہا جائے گا اور ایسے شخص سے قرض لینے اور مالی معاملات کرنے کی گنجائش ہوگی اور اگر حسب اصول شرع اُس کی اکثر آمدنی جائز ہو تو اس کی دعوت یا ہدیہ قبول کرنا بھی جائز ہوگا۔

    (۲- ۴):یہ سوالات حرام مال کی تفصیلی وضاحت کے ساتھ کیے جائیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند