• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 603544

    عنوان:

    میں اسكول میں بس ڈرائور ہوں‏، چھٹیوں میں اسكول نہیں جاتا‏، كیا ان دنوں كی تنخواہ حلال ہے؟

    سوال:

    میں ایک سکول ۔میں چوکیدار ہوں۔سردی کے موسم میں دو ماہ چھٹیاں ہوتی ہیں ۔اور چھٹیوں میں میری ڈیوٹی بھی ہوتی ہے لیکن میں اکثر چھٹیوں میں سکول نہیں جاتا ہوں ۔سکول کے قریب ہمارے کچھ کرایادار رہتے ہیں اس کو میں نے کہا ہے کہ آپ سکول پر نظر رکھیں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا میرے لیے تنخواہ لینا حرام تو نہیں ہے ؟

    جواب نمبر: 603544

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:584-482/N=8/1442

     آپ جس اسکول میں چوکیداری کی پوسٹ پر ملازم ہیں، اُس میں سردی کے ایام میں جو ۲/ ماہ کی چھٹیاں ہوتی ہیں، اگر اِن (چھٹیوں) میں آپ کے لیے اسکول میں حاضر رہ کر ڈیوٹی کرنا ضروری ہے تو آپ کا گھر رہ کر تنخواہ لینا جائز نہیں ہے۔

    المادة: ۴۲۵: الأجیر الخاص یستحق الأجرة إذا کان في مدة الإجارة حاضراً للعمل، ولا یشترط عملہ بالفعل؛ ولکن لیس لہ أن یمتنع عن العمل، وإذا امتنع لا یستحق الأجرة (مجلة الأحکام العدلیة،ص: ۱۶۳، رقم المادة: ۴۲۵، ط: دار ابن حزم للطباعة والنشر والتوزیع، بیروت، لبنان،و مع درر الحکام لعلي حیدر، ۱: ۴۵۸، ط: دار عالم الکتب للطباعة والنشر والتوزیع، الریاض، ومع شرح المجلة للأتاسي، ۲: ۴۸۷، ط: المکتبة الرشیدیة، کوئتة، باکستان)۔

    ومعنی کونہ حاضراً للعمل أن یسلم نفسہ للعمل، ویکون قادراً وفي حال تمکنہ من إیفاء ذلک العمل (درر الحکام شرح مجلة الأحکام لعلی حیدر، ۱: ۴۵۸)۔

    قال:”وإن لم یعمل“: أي: یسلم نفسہ ولم یعمل مع التمکن، أما إذا امتنع عن العمل ومضت المدة، أو لم یتمکن من العمل ومضت المدة لم یستحق الأجر؛ لأنہ لم یوجد تسلیم النفس کذا في الکفایة (ذخیرة العقبی في شرح صدر الشریعة العظمی: حاشیة شرح الوقایة لأخي یوسف، کتاب الإجارة، باب من الإجارة، ص: ۵۱۸، ط: مطبع منشی نول کشور)۔

    قولہ: ”وإن لم یعمل“: أي: سلم نفسہ ولم یعمل مع التمکن، أما إذا امتنع من العمل ومضت المدة أو لم یتمکن من العمل لعذر ومضت المدة لم یستحق الأجر؛ لأنہ لم یوجد تسلیم النفس کذا في الکفایة، ولذا قال العیني: فیستحقہ مالم یمنعہ من العمل مانع کالمرض والمطر ونحو ذلک مما یمنع التمکن من العمل انتھی (زبدة النھایة لعمدة الرعایة، کتاب الإجارة، باب من الإجارة، ۳: ۳۳۲، رقم الھامش: ۱، ط:المطبع الیوسفي، لکناوٴ)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند