• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 603443

    عنوان:

    ائیرٹل کمپنی میں نوکری کرنا جب کہ بینک کا کام بھی دیکھنا پڑے

    سوال:

    میں ایک کمپنی میں ملازمت کرتاہوں، اور اس کمپنی نے (ایئر ٹیل اور ایسینٹور (airtel,aur accenture) کے پروجیکٹ پر مجھے کام دیاہے، اور میں نیٹ ورک انجینئر کی حیثیت سے اس پروجیکٹ پر کام کررہا ہوں، میرے ائیرٹیل جو ایک موبائل ٹیلی کام کمپنی ہے، اور وہ مختلف جگہوں سے کام اٹھاتا ہے، جیسے اسپتال ، سرکاری بزنس (بینک، ایچ ڈی ایف سی، ایس بی آئی، انشورنس کمپنی) سرکاری بزنس کے نیٹ ورک سے جوڑے تمام کام دیکھتی ہے، اس کے اندر بینک بھی شامل ہے، ایئر ٹیل ارگنائزیشن کا ایل او بی(LOB) ، تین قسم کی ہے،(۱) کارپوریٹ بزنس ، جس میں نیٹ ورک پروڈکٹ ، (۲) گلوبل بزنس ، ہول سیل ٹیلی کمیونیکیشن مشین دیکھتی ہے، (۳) انٹرپرائز سرکاری بزنس جس کے اندر بینک کا ٹیلی کیمونیکیشن نیٹ ورک دیکھتی ہے، کیا اس میں ملازمت کرنا بہتر ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 603443

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:631-533/sn=8/1442

     اگر آپ کو دوران ملازمت لازمی طور پر بینک کے کا موں کی دیکھ ریکھ بھی کرنی پڑتی ہو تو صورت مسئولہ میں آپ اس کمپنی میں ملازمت نہ کریں؛ کیونکہ اس میں سودی کاوربار کو فروغ دینے میں تعاون پایا جاتا ہے جو کہ شرعا منع ہے۔

    قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ.(المائدة: 2)لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا، ومؤکلہ، وکاتبہ، وشاہدیہ، وقال: ہم سواء. (صحیح مسلم 3/ 1219) ومنہا أن یکون مقدور الاستیفاء - حقیقة أو شرعا فلا یجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار علی المعاصی؛ لأنہ استئجار علی منفعة غیر مقدورة الاستیفاء شرعا.(الفتاوی الہندیة 4/ 411،الباب الأول،مطبوعة: مکتبة زکریا،دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند