• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 603402

    عنوان:

    اپنا آفس غیر مسلم كو كرایہ پر دینا؟

    سوال:

    ہندو آبادی والے علاقے میں میری ایک آفس ہے جس میں آٹھ سے دس لوگ بیٹھ سکتے ہیں، اس وقت میں صرف اکیلا ہی اس آفس کا استعمال کرتارہا ہوں، چونکہ کوئی دوسرا اسٹاف نہیں ہے، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں آفس کے کچھ حصہ کو غیر مسلم کو کرائے پر دے سکتاہوں؟ہم دونوں ایک بلڈنگ میں کام کرتے ہیں، کرایہ کے لیے کوئی مسلم بندہ نہیں مل رہاہے، اگر ہم کسی غیر مسلم کو شراکت کی بنیاد پر آفس دیتے ہیں اوروہ کوئی مذہبی کام جیسے دیوالی پوجا وغیرہ کرے تو مجھے کوئی گناہ ہوگا؟

    براہ کرم، رہنمائی فرمائیں، چونکہ کسی غیر مسلم کو آفس شیئر کرنے میں ڈر لگتاہے۔

    جواب نمبر: 603402

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 698-516/B=07/1442

     آپ اپنا آفس کسی غیر مسلم کو کرایہ پر دے سکتے ہیں۔ خواہ اس میں وہ ذاتی طور پر کبھی بُت کی پوجا کرے آپ کو کوئی گناہ نہیں ملے گا۔ آپ کو صرف اپنے کرایہ سے مطلب ہے۔ کرایہ دار اس آفس میں کچھ بھی بوجا پاٹ کرے آپ گنہگار نہ ہوں گے۔

     


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند