• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 60323

    عنوان: میرا سوال مفتیان کرام سے یہ ہے کہ میرا ٹور اور ٹریویلس کا بزنس ہے جس میں ٹور صرف حج اور عمرہ کا ہے اور ٹریویلس (سفر )ہر چیز کا تو اس کے بارے میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس قسم کے بزنس میں کسی بھی حرام یا مشتبہ چیز آمیزش ہے یا نہیں؟ میں یہ چاہتاہوں کہ آپ اس بزنس کے بارے میں پورے طورپر جانکاری حاصل کرنے کے بعد میری اس کشمکش کو دور کریں اور ساتھ میں ایک بات اور پوچھنا چاہتاہوں کہ حج کے مہینے میں ٹور کے ذریعہ حج کروانا کیسا ہے؟ عمرہ حج ٹورکرنے والے کے لیے ؟

    سوال: میرا سوال مفتیان کرام سے یہ ہے کہ میرا ٹور اور ٹریویلس کا بزنس ہے جس میں ٹور صرف حج اور عمرہ کا ہے اور ٹریویلس (سفر )ہر چیز کا تو اس کے بارے میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس قسم کے بزنس میں کسی بھی حرام یا مشتبہ چیز آمیزش ہے یا نہیں؟ میں یہ چاہتاہوں کہ آپ اس بزنس کے بارے میں پورے طورپر جانکاری حاصل کرنے کے بعد میری اس کشمکش کو دور کریں اور ساتھ میں ایک بات اور پوچھنا چاہتاہوں کہ حج کے مہینے میں ٹور کے ذریعہ حج کروانا کیسا ہے؟ عمرہ حج ٹورکرنے والے کے لیے ؟

    جواب نمبر: 60323

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1094-1050/N=1/1437-U (۱) اگر آپ اپنے کاروبار کی پوری نوعیت تحریر کرکے سوال کرتے تو بہتر تھا؛ کیوں کہ اس صورت میں ہمارے لیے واضح طور پر جواب لکھنا آسان ہوتا، ویسے آپ کے سوال کا اجمالی جواب یہ ہے کہ ٹور اور ٹراویلس کے بزنس میں لوگ مختلف طرح کی دھوکہ دہی وغیرہ کرتے ہیں، نیز اس میں آفیسران کو رشوت دے کر حکومت کے بہت سے جائز قوانین کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں؛ اس لیے اس بزنس میں دھوکہ دہی وغیرہ سے بچنا اور لوگوں سے اپنے ٹور اور سہولیات وغیرہ کی صاف صاف وضاحت کرکے معاملہ کرنا اور حسب معاملہ انھیں طے شدہ سہولیات وغیرہ فراہم کرنا ضروری ہے، معاملہ کرنے میں جھوٹ بولنا، دھوکہ دہی کرنا یا حسب معاملہ سہولیات وغیرہ فراہم نہ کرنا ناجائز ہے، نیز واقعی مجبوری کے علاوہ عام حالات میں آفیسران سے رشوت کا معاملہ کرنا بھی ناجائز ہے۔ (۲) ٹور کے ذریعہ حج کروانا جائز ہے بشرطیکہ حکومت کے جائزقوانین کی خلاف ورزی نہ کی جائے، نیز لوگوں کے ساتھ کسی طرح کی دھوکہ دہی اور وعدہ خلافی وغیرہ بھی نہ کی جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند