• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 602840

    عنوان:

    خنزیر کے بالوں سے سلے ہوے Ball کا حکم

    سوال:

    حضرت مفتی صاحب! زید ایک کمپنی کا مالک ہے جس میں ڈیوز بال (Duse ball) بنتے ہیں، اس بال (Ball) کی سلائی کے لیے خنزیر کے بالوں سے بنے دھاگے کا استعمال کرنا پڑتا ہے ․ زید کا کہنا یہ ہے کہ خنزیر کا بال بہت مضبوط ہوتا ہے ، جس کی وجہ سے (Ball) دیرپا ہوتا ہے ، دوسرے دھاگوں کی سلائی جلد ٹوٹ جاتی ہے ، اس لیے ادوسرے دھاگوں کے استعمال سے اس کی مارکیٹ ویلیو خراب ہوتی ہے جس سے اس کا خسارہ ہوتا ہے ، سیلرز ان سے مال لینا کم کردیتے ہیں یا بند کردیتے ہیں․ اس لیے خنزیر کے بالوں سے بنے دھاگے کا استعمال اس کی مجبوری ہے ، اس تفصیل کی روشنی میں سوال یہ ہیں کہ ایا زید کے لیے اس قسم کا بال (Ball) بنانا اور بیچنا جائز ہے یا پھر اسے کارخانہ بند کردینا چاہیے ؟ ڈیوز بال (Duse ball) بنانے والے ایک غیر مسلم کے کارخانہ میں خالد بطور ملازم کام کرتا ہے تو کیا خالد کا وہاں کام کرنا اور سیلری لینا جائز ہے ؟ راشد اس بال (Ball) کی تجارت کرتا ہے ، یعنی کارخانہ سے تھَوک خریدتا ہے اور بازار میں فروخت کردیتا ہے ، اس سے وہ اچھا.منافع کماتا ہے جب کہ اسے معلوم ہے کہ یہ اس Ball کی سلائی خنزیر کے بالوں سے بنے دھاگے سے ہوئی ہے تو کیا راشد کا یہ کاروبار درست ہے ؟ المحیط البرہانی کی درج ذیل عبارت کی تحقیق بھی فرمادیں! "وأما شعر الخنزیر فہو نجس، ہو الظاہر فی مذہب أبی حنیفة رحمة اللہ علیہ، وروی أنہ رخص للخزازین استعمالہ؛ لأن منفعہ الخرز عادةً لاتحصل إلا بہ، وجرت العادة فی زمن الصحابة رضوان اللہ علیہم إلی یومنا ہذا فی استعمالہ فی الخرز من غیر نکیر منکر، وعن أبی یوسف رحمہ اللہ؛ أنہ لایفسد إلا أن یغلب"․ (المحیط البرہانی فی الفقہ النعمانی:1/ 476) اللہ تعالی جزائے خیر دے اور آپ کے حسنات کو قبول فرمائے ۔

    جواب نمبر: 602840

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 501-110T/D=07/1442

     (۱) گیند کی سلائی میں خنزیر کے بالوں کا استعمال ناجائز ہے، اس لئے زید کے لیے لازم ہے کہ وہ دوسرے مضبوط دھاگوں کے استعمال پر اکتفاء کرے۔

    فی الدر: ․․․․․ وشعر الخنزیر، لنجاسة عینہ، فیبطل بیعہ۔ ابن کمال، وإن جاز الانتفاع بہ لضرورة الخرز ․․․․ ولعل ہذا في زمانہم، أما في زماننا فلا حاجة إلیہ کما لا یخفی۔ (ردالمحتار: 7/264-265، ط: زکریا، باب البیع الفاسد)

    (۲) اگر خالد کو خنزیر کے بالوں سے متعلق کوئی کام (سلائی وغیرہ) انجام نہیں دینا پڑتا؛ بلکہ اس کے ذمے دوسرے کام ہیں تو اس کے لئے غیرمسلم کے مذکورہ کارخانے میں ملازمت جائز ہے، ورنہ نہیں۔

    (۳) اگر مراد یہ ہے کہ راشد وہ گیندیں نہیں بناتا، بلکہ بنی بنائی خریدتا ہے اور آگے بیچتا ہے تو مذکورہ تجارت کی گنجائش ہے بشرطے کہ وہ خریدار پر یہ واضح کردے کی ان گیندوں میں خنزیر کا بال لگا ہوا ہے؛ البتہ بہتر یہی ہے کہ مذکورہ گیندوں کی تجارت سے اجتناب کیا جائے۔

    فی المبسوط للسرخسي: مسألة الدہن إذا اختلط بہ ودک المیتة أو شحم الخنزیر، وہي تنقسم ثلاثة أقسام ․․․․․ فأما إذا کان الغالب ہو الزیت فلیس لہ أن یتناول شیئاً منہ في حالة الاختیار لأن ودک المیتة وإن کان مغلوباً مستہلاکاً حکماً؛ فہو موجود في ہذا المحل عقیقة، وقد تعذر تمییز الحلال من الحرام، ولا یمکنہ أن یتناول جزء اً من الحلال إلا بتناول جزء من الحرام، وہو ممنوع شرعاً من تناول الحرام، ویجوز لہ أن ینتفع بہا من حیث الاستصباح ودبغ الجلود بہا، فإن الغالب ہو الحلال، فالانتفاع إنما یلاقي الحلال مقصوداً ․․․․․ وکذلک یجوز بیعہ مع بیان العیب عندنا الخ (10/197-198، قدیم)

    في الہندیة: والحلال إذا اختلط بالحرام کالخمر والفأرة تقع في السمن والعجین فلا بأس ببیعہ إذا بَیَّن ما لم یغلب علیہ أو استویا، کذا فی محیط السرخسي، ولا بأس بالانتفاع بہ من غیر الأکل۔ (3/116، قدیم، الباب التاسع، الفصل الخامس)۔

    فی الأصل للإمام محمد رحمہ اللہ: منہا أن رجلاً لو کان لہ زیت، فاختلط بہ بعض ودک میتة أو شحم خنزیر، إلا أن الزیت ہو الغالب علی ذلک، لم نر بأساً بأن یستصبح بہ وأن یدبغ بہ الجلود ثم یغسلہ، وأن یبیعہ ویبین عیبہ۔ (2/221، ط: دار ابن حزم، ت د․ محمد بوینوکالن)

    (۴) جہاں تک محیط برہانی کی عبارت کا تعلق ہے، تو جوتوں وغیرہ کی سلائی میں خنزیر کے بالوں کو استعمال کرنے کی اجازت پہلے زمانے میں دی گئی تھی، بعد کے فقہاء نے فرمایا ہے کہ یہ اجازت ہمارے زمانے میں نہیں ہے، جیسا کہ علامہ حصکفی نے درمختار میں اس کی صراحت کی ہے۔ (الدر مع الرد: 7/265)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند