• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 602583

    عنوان:

    سودی قرض ادا کرنے کے لئے بینک سے لون لینا

    سوال:

    ایک آدمی ہے جس نے سود پر کچھ رقم لیا تھا وہ اب یہ رقم ادا کرنے سے قاصر ہے ۔اور اس نے توبہ کر لی کہ اب وہ سود نہیں لے گا مگر جس سے اس نے سود لیا تھا وہ شخص اس شخص کو بہت زیادہ پریشان کر رہا ہے کہ وہ اس کی رقم ادا کرے جبکہ اس کی پاس اتنی وسعت نہیں ہے کہ وہ فوری طور پر سود کی رقم ادا کر سکے ۔اب وہ شخص چاہتا ہے کہ بینک سے لون لیکر سود ادا کر دے کیونکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہیں ہے ۔

    جواب نمبر: 602583

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 502-409/SN=07/1442

     سود پر قرض لینا شدید ضرورت کے بغیر شرعاً جائز نہیں ہے خواہ کسی فرد سے لیا جائے یا بینک وغیرہ سے؛ اس لیے شخص مذکور کو چاہئے کہ بینک سے سود پر قرض لینے کے بہ جائے اپنی ملکیت میں اگر کچھ زمین جائیداد یا سونا چاندی وغیرہ ہو تو اس میں سے تھوڑا بہت فروخت کرکے قرض ادا کردے اور آئندہ کے لیے کوئی مناسب ذریعہٴ معاش اختیار کرے؛ تاکہ ”سود“ کی لعنت میں پڑنے کی نوبت نہ آئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند