• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 602186

    عنوان:

    برسے نامی ایپ کا استعمال کیسا ہے ؟

    سوال:

    سوال : *BURSE نامی ایپ سے روپیہ کمانے کا تفصیل حکم* آج کل BURSE نامی ایک ایپ رائج ہے ، جس سے عام مسلمان، خصوصا نوجوان طبقہ، جانے انجانے میں روپیہ کما رہا ہے ، اس ایپ کی کچھ تفصیل اس طرح ہے کہ اس ایپ میں آرڈر کی شکل میں صرف خریداری کا نظام ہے ، حقیقت میں خریداری نہیں ہے ، حقیقت جس کی یہ ہے کہ اس ایپ کو اوپن کرنے کے بعد صرف یہ چیزیں شو ہوتی ہے ، گنگن، کوکر، ورزش کی مشین اور دو، چار قسم کی فریج۔۔۔۔ اور ہرایک کے نیچے آرڈر کا بٹن ہوتا ہے ، آرڈر کے بٹن پر ٹاسک کرنے کے بعد ریٹرن کا بٹن نمودار ہوتا ہے ، پھر ریٹرن کے بٹن پر ٹاسک کرنا ہوتا ہے ، یہ ایک مرتبہ کا عمل ہوا اس طرح یومیہ کم از کم تیس مرتبہ کرنا ہوتا ہے ، اگر اس سے کم ٹاسک ہوئے تو وہ نفع کا مستحق نہیں ہوگا اس ایپ میں چار مرحلے ہیں ؛

    (1) کچھ بھی روپیہ جمع کئے بغیر ۱۰۰روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر آرڈر دینا ہوتا ہے ، پھر اس آرڈر کو ریٹرن کرنا ہوتا ہے ، جس کے نتیجہ میں صارف کا وہ اکاؤنٹ جو ایپ میں ہے ، اس میں نفع کے نام سے معمولی روپیہ جمع ہوتا ہے ، پھر صارف اگر چاہے تو نفع کے عنوان سے دئیے گئے ان روپیوں کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرسکتا ہے ۔ (2) ۵۰۰روپیہ جمع کرکے ۵۰۰روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر سابق عمل کرنا ہوتا ہے ، اس مرحلہ میں اول کے مقابلہ میں نفع کے نام سے کچھ زیادہ روپیہ جمع ہوتا ہے (3) ۵۵۰۰روپیہ جمع کرنا ہوتا ہے ، جس میں سے ۵۰۰روپیہ ممبرشپ کے عنوان سے کٹ جاتا ہے ، پھر اس میں بھی ۵۰۰۰روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر سابق عمل کرنا ہوتا ہے اور اس مرحلہ میں نمبر دو سے ، زائد روپیہ نفع کے نام سے جمع ہوتا ہے (4) اکتیس ھزار روپیہ جمع کرنا ہوتا ہے ، جس میں سے ایک ھزار روپیہ ممبرشپ کے عنوان سے کٹ جاتا ہے ، پھر اس میں تیس ھزار روپیہ یا اس سے کم قیمت والی چیز پر بھی سابق عمل کرنا ہوتا ہے اور اس مرحلہ میں درجہء سوم کے مقابلہ میں زیادہ روپیہ، نفع کے نام سے جمع ہوتا ہے پھر یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اول مرحلے کا صارف نمبر دوم، سوم اور چہارم کی چیز پر آرڈر کرنا کا عمل کرنا چاہے ، تو نہیں کرسکتا، اس کے سامنے ان تین آپشن میں سے کوئی آپشن کھلیگا ہی نہیں، اسی طرح نمبر دو والے کے لئے تیسرا اور سوم مرحلہ والے کے لئے چوتھا آپشن کھلے گا ہی نہیں، جب تک کہ ایپ کی طرف سے متعین کردہ مخصوص رقم جمع نہ کروائے اور ممبرشپ کے عنوان سے متعین کردہ رقم نہ کٹوائے ، *زیادہ نفع کا حصول۔۔۔۔* پھر اگر کوئی صارف زیادہ روپیہ حاصل کرنا چاہے تو آگے کسی کو ممبرشپ دے سکتا ہے ، ممبرشب کی وجہ سے اس کو مزید روپیہ ملیگا، پھر نمبر دو کا ممبر یہ ممبرشپ آگے منتقل کرے گا اور دوم نمبر والا ممبر کمپنی کے اپنے اکاؤنٹ میں ریچارج کرے گا تو اس کی وجہ سے دوم نمبر والے کو تو نفع ملے گا ہی، ساتھ نمبر اول والے کو بھی نفع ملے گا، اگرچہ درجہء سوم کے ممبر کو اول درجہ کا ممبر جانتا اور پہچانتا نہ ہو، اس تیسرے ممبر کی وجہ سے اول کو دوم کے مقابلہ میں کم روپیہ ملے گا، لیکن ملے گا ضرور۔۔۔ اسی طرح یہ سلسلہ اور کڑی نیچے کی طرف چلتی رہے گی، اور نیچے کے ممبران کے ریچارج کرنے کی صورت میں اوپر کے تمام ممبران کو ایپ کی طرف سے متعین کردہ تناسب کے حساب سے ہرایک کو کمیشن ملتا رہے گا۔ واضح رہے کہ یہ ممبرشب لازمی نہیں ہے ، اختیاری ہے ، لیکن زیادہ روپیہ کمانے کے چکر میں تقریبا ہر صارف ممبر زیادہ بنانے کی فکر میں رہتا ہے *یہ نفع کس وجہ سے آتا ہے ؟* اس کے متعلق ایپ کے ڈائریکٹر سے بذریعہء واٹس ایپ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ چونکہ آپ نے ہماری تجارت کو فروغ دینے میں اشیاء کا اشتہار کیا، یہ اس اشتہار کی اجرت ہے ، جو ہم آپ کو دے رہے ہیں۔ ہم نے اس کی مصنوعات کی تفصیل جاننا چاہی، تو اس نے ایماژون کا حوالہ دیا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایپ ایماژون کی اشیاء کا اشتہار کررہا ہے ، لیکن بسیار تحقیق کے باوجود اس بات کا واضح ثبوت نہیں مل سکا کہ یہ ایپ ایماژون کے ساتھ کنیکٹ ہے ۔ صارفین اور خود کی تحقیق سے مذکورہ بالا طریقہ اور سسٹم کا علم ہوا ہے ۔ شرعی لحاظ سے اس میں شریک ہونا اور اس سے روپیہ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 602186

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 487-125T/H=06/1442

     فرضی اور جعلی کارروائی بھی جائز نہیں، اس کے علاوہ بھی جو تفصیل آپ نے لکھی ہے مجموعی اعتبار سے تمام معاملات دائرہٴ جواز سے باہر ہیں، اس لئے اس کمپنی یعنی BURSE سے جڑ کر مسلمانوں کو کمائی کرنا جائز نہیں، خود آپ کو باوجود بسیار کوشش کے مذکورہ فی السوال کمپنی کے تمام معاملات کی پوری تحقیق نہیں ہوسکی۔ اگر کمپنی کا مطبوعہ کتابچہ ہو نیز اگر وہ کسی دوسری زبان میں ہو تو صاف صحیح اُردو ترجمہ کتابچہ سے ہمرشتہ کرکے بھیج دیں تو اس کے متعلق مزید تحقیق کرکے جواب تفصیل کے ساتھ لکھ دیا جائے گا ان شاء اللہ تعالی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند