• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 601451

    عنوان:

    ڈلیوری میں شراب لے جانا؟

    سوال:

    میرا دوست ڈلیوری کا کام کرتا ہے اور وہ جس کمپنی کیلئے ڈلییوری کرتا ہے وہ شراب بھی فروخت کرتی ہے، جب وہ سامان اٹھانے کیلئے پہنچتا ہے تو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ آج کتنی اشیاء ڈلیوری کرنی ہوگی اور وہ کیا ہوگی، جب کمپنی والے میں ہاتھ میں ٹرالی پکڑا تے ہیں تبھی پتہ چلتا ہے، یوں تو اکثر چیزیں کھانے پینے کی اور گھریلو استعمال کی ہوتی ہیں البتہ کبھی کبھار ( 5 سے 10 فیصد )اس میں شراب بھی شامل ہوتی جو اس کو کسی کے گھر یا دفتر پہنچانی ہوتی ہے۔

    براہ کرم بتا دیجئے کہ آیا اس کی آمدنی حلال ہے یا حرام؟ اور کیا اس کو گناہ ہوگا ایسی ڈلیوری کا؟ جز اکم اللہ

    جواب نمبر: 601451

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:293-221/sn=5/1442

     یہ جانتے ہوئے کہ اس پیکٹ میں شراب ہے ، پھر بھی اسے لے جانا اور گاہک کے گھر تک پہنچاناشرعا مکروہ ہے ، اس کے بہ قدر آمدنی میں بھی خبث آئے گا،گو آمدنی کو پورا حرام نہ کہا جائے ۔

    (و) جاز تعمیر کنیسة و (حمل خمر ذمی) بنفسہ أو دابتہ (بأجر) .[الدر المختار )(قولہ وحمل خمر ذمی) قال الزیلعی: وہذا عندہ وقالا ہو مکروہ " لأنہ - علیہ الصلاة والسلام - لعن فی الخمر عشرة وعد منہا حاملہا ولہ أن الإجارة علی الحمل وہو لیس بمعصیة، ولا سبب لہا وإنما تحصل المعصیة بفعل فاعل مختار، ولیس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملہا قد یکون للإراقة أو للتخلیل، فصار کما إذا استأجرہ لعصر العنب أو قطعہ والحدیث محمول علی الحمل المقرون بقصد المعصیة اہ زاد فی النہایة وہذا قیاس وقولہما استحسان إلخ(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین 9/ 562، فصل فی البیع، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند