• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 601265

    عنوان:

    دھان کٹا کر لانے کی اجرت میں اسی دھان کی بھوسی دینا

    سوال:

    ایک شخص کو دھان کٹواکر چکی سے لانے کے لئے کہا تو اس نے از خود اپنی یہ مزدوری طے کی کہ بھوسی گوڑا میرا ہوگا اور چکی والے کو پیسہ بھی ہم ہی دیں گے،عرض یہ ہے کہ یہ معاملہ صحیح ہوا یا نہیں جواب عنایت فرماکر ممنون و مشکور ہوں۔

    جواب نمبر: 601265

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:321-328/L=5/1442

     صورتِ مسئولہ میں اس شخص کی حیثیت اجیر کی ہے اور مذکورہ بالا طور پر اجارہ کرنے میں متعدد خرابیاں ہیں:

    ۱۔ اجیر کے ذمہ صرف عمل ہوتا ہے ،روپیہ وغیرہ دینا مالک کا کام ہوتا ہے ،اور اس میں چکی کی پسائی کی اجرت خود اجیر دے رہا ہے ۔

    ۲۔ اجرت بعینہ عمل کے جنس سے نہ ہو جبکہ یہاں دھان کے نتیجے میں حاصل بھوسی کو اجرت قرار دیا جارہا ہے۔

    ۳۔ اجرت معلوم ومتعین ہونی چاہیے جبکہ بھوسی کتنی ہوگی یہ مجہول ہے ،ان وجوہ کی بناپریہ معاملہ جائز نہیں ؛البتہ جواز کی صورت یہ ہو سکتی ہے کوئی متعینہ مقدار بھوسی وغیرہ اجرت کے طور پر طے کرلی جائے اس میں یہ شرط نہ لگائی جائے کہ یہی بھوسی لی جائے گی جو اس کے عمل کے نتیجے میں نکل رہی ہے پھر خواہ بلا شرط اسی بھوسی کو دیدیا جائے ، تو یہ معاملہ جائز ہوجائے گا۔

    (ولو) (دفع غزلاً لآخر لینسجہ لہ بنصفہ) أی بنصف الغزل (أو استأجر بغلاً لیحمل طعامہ ببعضہ أو ثوراً لیطحن برہ ببعض دقیقہ) فسدت فی الکل؛ لأنہ استأجرہ بجزء من عملہ، والأصل فی ذلک نہیہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قفیز الطحان، وقدمناہ فی بیع الوفاء. والحیلة أن یفرز الأجر أولاً أو یسمی قفیزاً بلا تعیین ثم یعطیہ قفیزاً منہ فیجوز (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) (6/ 56) ومنہا أن تکون الأجرة معلومة. ومنہا أن لا تکون الأجرة منفعة ہی من جنس المعقود علیہ کإجارة السکنی بالسکنی والخدمة بالخدمة.[الفتاوی الہندیة 4/ 411)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند