• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 600774

    عنوان: ملٹی لیول ماركیٹنگ

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید ایک کمپنی میں کام کرتا ہے (وسٹیج) جس میں وہ سب سے پہلے اپنی بنیادی ضروریات کے سامان خرید تا ہے پھر انہیں سامان کو لوگوں کو بتاتا ہے اور اگر کوئی شخص اس کمپنی کا سامان لینا چاہتا ہے تو زید ان کو کمپنی کے رول کے حساب سے اس کو سامان دلواتا ہے یا ان کی آئی ڈی بنا کمپنی کے دوکان کا پتا بتاتا ہے پھر جب ایک ماہ پورا ہوجاتا ہے تو زید کے معرفت کمپنی کا جو بھی بزنس ہوتا اس میں سے زید کے لیبل (درجہ)کے حساب سے نفع میں سے ۵ ٪ ۸ ٪ ملتا ہے دریافت یہ کہ کیا زید کو یہ نفع لینا جائز ہے اور اس کمپنی میں کام کرنا درست ہے ؟

    مدلل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔

    جواب نمبر: 600774

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 244-203/H=03/1442

     آپ نے جو تفصیل لکھی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کمپنی (وسٹیج) ملٹی لیول مارکیٹنگ کی شکل میں کام کرتی ہے جس میں مختلف مفاسد و خرابیاں پائی جاتی ہیں مثلاً غیر متعلقہ شرطیں غرر دھوکہ وغیرہ اور بظاہر ان جیسی کمپنیوں میں اشیاء کی خرید و فروخت مقصود بھی نہیں ہوتی بلکہ اپنا کمیشن بڑھانے کا ٹارگیٹ اور منصوبہ ہوتا ہے نیز کمپنی کے اصول کے مطابق ہر ممبر کو ان ممبروں کی خریداری پر بھی معاوضہ دیا جاتا ہے جن کی ممبر سازی میں اس کی محنت کا کوئی دخل نہیں ہوتا وغیرہ بہرحال ان جیسے مفاسد کی وجہ سے ان جیسی کمپنیوں میں کام کرنا درست نہیں اگر وسٹیج کمپنی کے معاملات اِس طرح کے نہ ہوں تو پھر آپ کمپنی کے اصول و ضوابط مطبوعہ بھیجیں نیز اگر وہ دوسری زبان میں ہوں تو صاف صحیح ترجمہ اردو میں کرکے اپنے استفتاء سے ہمرشتہ کردیں اور وہ ترجمہ مقامی مفتیان کرام کو بھی دکھادیں اس پر مزید غور خوض کرکے ان شاء اللہ وسٹیج کمپنی سے متعلق رہنمائی کردی جائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند