• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 600267

    عنوان:
    سماجی بائیكاٹ ختم كرنے كے لیے پیسہ لینا

    سوال:

    میرا سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کا سماجی بائکاٹ کیا گیا ہو اگر وہ دوبارہ سماج میں آنا چاہیں تو ان سے پیسہ لینا کیسا ہے ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ پیسہ اس لیے لے رہے ہیں کہ تم نے ایک سال تک امام کو تنخواہ نہیں دیا اس لیے پورے ایک سال کی تنخواہ دو تب سماج میں شامل کریں گے تو یہ صحیح ہے یا نہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کچھ نئے لوگ بستی میں آ کر بسے ہیں ان کو سماج اور مسجد میں شامل کرنے کے لیے پیسہ لینا اور اس کو مسجد میں لگانا کیسا ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

    جواب نمبر: 600267

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 92-124/H=02/1442

     (۱) معلوم نہیں کہ یہ سماجی بائیکاٹ کن وجوہ سے کیا گیا تھا ان کی پوری تفصیل لکھتے تو وضاحت سے جواب لکھا جاتا۔ دوبارہ سماج میں شامل کرنے کے لئے پیسے لینا جائز نہیں خواہ تنخواہِ امام کے عنوان سے ہی لئے جائیں پیسے لینے کی شرط ختم کردیں پھر وہ لوگ کچھ پیسے اپنی خوشدلی سے مسجد میں دیدیں تو اس میں کچھ حرج نہیں۔

    (۲) سماج اور مسجد میں شامل کرنے کے لئے پیسے لینا جائز نہیں بلکہ اِس عنوان پر وہ خود بھی دیں تو ذمہ داران مسجد کو قبول نہ کرنا چاہئے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند