• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 600087

    عنوان:

    اسٹیٹ بینک کاکسٹمر سروس پوائنٹ لے کر اکاونٹ کھولنا اورپیسہ ٹرانسفر کرنے پر کمیشن لینا درست ہے یا نہیں؟

    سوال:

    درج ذیل مسئلہ کے بارے میں شرعی حکم سے آگاہ فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں. مسئلہ یہ ہے زید اسٹیٹ بینک آف انڈیا (جو سودی لین دین بھی کرتا ہے ) کا CSP(کسٹمر سروس پوائنٹ) کا لائسنس لے کر بینک کا اکاؤنٹ کھولتا ہے اور منی ٹرانسفر اوراکاونٹ میں پیسہ جمع کرنے کی کی سروس فراہم کرتا ہے جس پر بینک کی طرف سے اس کو کمیشن ملتا ہے ، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بینک کا اکاؤنٹ کھولنا، پیسہ ٹرانسفر اور جمع کر نے کی سروس فراہم کر نا جائز ہے یا ناجائز اور اس پر ملنے والے کمیشن کا کیا حکم ہے ؟

    جواب نمبر: 600087

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:44-22/sn=1/1442

     کسٹمر سروس پوائنٹ درحقیقت بینک کی ایک چھوٹی سی شاخ ہوتی ہے، جس میں بینک ہی سے متعلق امور انجام دیئے جاتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ بینک کا بنیادی کاروبار سود پر مبنی ہوتا ہے؛ لہٰذا ”سی ایس پی“ لے کر سودی اکاوٴنٹ کھولنا یا دیگر سودی لین دین کرنا شرعا جائز نہ ہوگا، باقی اگر کوئی اپنے کام کو رقم کی منتقلی اور جمع کرنے نیز اس جیسے دیگر مباح کاموں تک محدود رکھ سکے تو اس کے لیے سروس پوائنٹ کھولنے کی شرعا گنجائش ہوگی۔

    قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ (المائدة: 2) لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا، وَمُؤْکِلَہُ، وَکَاتِبَہُ، وَشَاہِدَیْہِ، وَقَالَ: ہُمْ سَوَاءٌ ۔ صحیح مسلم (3/ 1219) ومنہا أن یکون مقدور الاستیفاء - حقیقة أو شرعا فلا یجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار علی المعاصی؛ لأنہ استئجار علی منفعة غیر مقدورة الاستیفاء شرعا․ (الفتاوی الہندیة (4/ 411


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند