• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 600059

    عنوان: بلڈ كیمپ لگانا

    سوال:

    مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کہ اکثر و بیشتر مریض کو خون کی ضرورت پڑتی ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مریض کے لئے خون عطیہ کرنے والا شخص موقع پر نہیں ملتا جس کی وجہ سے بعض دفعہ مریض زندگی سے ہار جاتا ہے ، اب ایسی صورت میں فوری طور پر اس کو مدد پدینے کے لئے یہ عمل کیا جاتا ہے کہ ایک شخص خون دینا چاہتا (بلڈ ڈونیٹ) کرنا چاہتا ہے تو اسکو بلڈ بینک کی جانب سے ایک کارڈ ملتا اس کارڈ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کارڈ کے ذریعے تین مہینے کے اندر کوئی بھی ضرورت مند اپنا مطلوبہ خون حاصل کرسکتا ہے یعنی اگر مریض کو خون کی ضرورت ہے تو وہ اس کارڈ کو دکھاکر اپنا مطلوبہ خون بلڈ بینک سے لے لیتا ہے اب اسکو اس آدمی کو تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی جو اسکو خون دے .. بس اس کو یہ کرنا ہوتا ہے کہ جس نے خون پہلے ڈونیٹ کیا ہوا ہے اس سے وہ کارڈ لے کر بلڈ بینک میں دکھادے تو اس کو فورا ہی خون مل جاتا ہے اور یہ بارہا کا تجربہ ہے (کیوں کہ میں اس محکمہ سے تعلق رکھتا ہوں) کہ جب مریض کو خون کی ضرورت ہوتی ہے تو خون دینے والا آدمی نہیں مل ملتا اور بلڈ بینک سے خون مفت نہیں ملتا بلکہ بھاری رقم دے کر خریدنا پڑتا جو ہر کس و ناکس کے لئے آسان نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بڑی مشقت ھوتی ہے تو آیا اگر کوئی شخص اپنا خون رضاکارانہ طور پر عطیہ کرکے وہ کارڈ حاصل کرلے تاکہ کسی ضرورت مند کو دیا جاسکے تو ایسا کرنا درست ہے یانہیں؟ نیز کبھی انسان اپنی مجبوری سے بھی خون نکلواتا ہے تاکہ اس کے خون کی حدت اور گرمی کم ہو سکے تو ایسی صورت میں بھی اس کا یہ خون بلڈ بینک میں جمع ھوکر کسی مریض کے کام آتا ہے . اسی طرح اگر ایسے مقصد کے لئے (بوقت ضرورت مریض کے خون کام آئے ) بلڈ کیمپ لگانا جسمیں لوگ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ کریں، کیسا ہے ؟ کیمپ کی ضرورت اس لئے کہ بعض اوقات ایک ہی مریض کویا کئی سارے مریضوں کو بہت سے یونٹ خون کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک دو آدمی اس ضرورت کو پورا نہیں کرپاتے تو اگر مریض کے پاس کئی لوگوں کے کارڈ ہوں تو خون بآسانی مل جاتا اور اس کو کچھ رقم بھی ادا نہیں کرنی پڑتی... اور خون عطیہ کرنے والوں سے کارڈ کا ملنا آسان ہوتا ہے بنسبت اس کے آنے سے ، کہ وہ دور ہوتا ہے بسلسلہ ملازمت وغیرہ کے ؛ تو کیا ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے رکت دان کیمپ لگا سکتے ہیں یا نہیں؟ واضح ہو کہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے چوبیسویں سیمینار منعقدہ کیرالہ بتاریخ 3 مارچ بروز شنبہ 2015 میں خون عطیہ کے متعلق کچھ تجاویز منظور ہوئی تھیں جن میں سے کچھ تجویز یہ تھیں کہ #ایسے بلڈ بینک جہاں لوگ رضاکارانہ طور پر خون عطیہ دیتے ہیں اور وہ بینک ضرورت مندوں کو مفت خون فراہم کرتے ہیں وہاں مسلمان کے لئے خون کا عطیہ کرنا جائز ہے #رضاکارانہ بلڈ کیمپ لگانا اور بلڈ بینک قائم کرنا بھی انسانی ضرورت کے پیش نظر جائز ہے . اور یہ انسانی خدمت میں شامل ہے .(بحوالہ :کتاب النوازل جلد 16 صفحہ 215 مطبوعہ المرکز العلمی لال باغ مراد آباد) اس بارے میں آپ وضاحت فرما دیں کہ مذکورہ صورتحال اور ضرورت کے پیش نظر بلڈ میں خون عطیہ کرنا اور بلڈ کیمپ لگابا درست ہوگا یا نہیں؟ جواب نمبر: 179718 03-Sep-2020 : تاریخ اشاعت Fatwa : 12-11/M=01/1442 اگر کسی مریض کو واقعی خون کی ضرورت ہے تو شرعاً اسے خون دینے کی گنجائش ہے لیکن ضرورت پیش آنے سے پہلے خون دینے اور لینے کے لئے باضابطہ خون عطیہ کیمپ (رکت دان کیمپ) لگانا درست نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند حضرات مفتیان کرام! اس مذکورہ سوال میں جس ضرورت کو ذکر کیا گیا ہے یعنی تجربہ یہ ہے کہ جس وقت ضرورت ھوتی ھے اس وقت آدمی کا ملنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے توکیا یہ ضرورت شرعاً معتبر نہیں ہے ؟. نیز اسلامک فقہ اکیڈمی کے سیمینار میں جن تجاویز کا اوپر ذکر آیا ہے کیا وہ تجاویز درست نہیں ہیں؟

    جواب نمبر: 600059

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 42-14T/M=02/1442

     اس بابت دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کا موقف وہی ہے جو سابقہ فتوے میں لکھا گیا ہے کہ اگر کسی مریض کو واقعی خون کی ضرورت ہے تو شرعاً اسے خون دینے کی گنجائش ہے اور اس میں یہ بھی قید ہے کہ خون دینے والے کو اپنی ہلاکت کا اندیشہ نہ ہو اور بلا عوض (مفت) خون دے۔ لیکن ضرورت پیش آنے سے پہلے باضابطہ خون عطیہ کیمپ (رکت دان کیمپ)لگانا درست نہیں، کیونکہ یہ یقینی نہیں کہ خون دینے والے کو یا اس کے کسی رشتے دار یا تعلق والے کو خون کی ضرورت پیش آہی جائے یہ صرف موہوم امر ہے اور کسی اجنبی شخص کو بلڈ بینک سے بغیر کارڈ کے مفت خون ملنا دشوار ہے تو ایسی صورت میں خون عطیہ کیمپ لگاکر خون دینے اور لینے کے عمل کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں، اور آپ نے تجربہ کی بنا پر جس پریشانی کی بات لکھی ہے کہ ضرورت کے وقت آدمی کا ملنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے تو ا س کا یہ حل ہو سکتا ہے کہ جو نوجوان خون دینا چاہتے ہیں ان کا نام اور بلڈ گروپ لکھ لیا جائے اور جب کسی مریض کو خون کی ضرورت ہو اس وقت رابطہ کرلیا جائے ۔ (مستفاد فتاوی رحیمیہ: جلد پنجم مکتبہ احسان دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند