• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 58817

    عنوان: میں بنگلور میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں کارڈی لوجی (علم مراض قلب) میں کام کررہاہوں، میرے شعبہ کے صدر ہر مجھے ایک چیک دیتے ہیں جس میں ہزاروکی رقم ہوتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ کسی دوسرے اسپتال سے ہمارے اسپتال میں علاج کے لیے کسی مریض کے ریفر ہو کر آنے پر مجھے چیک ملتاہے۔ اصل بات یہ ہے کہ میں باہر کسی اسپتال میں کام نہیں کررہا ہوں۔ بس وہ ریفر کرنے والے ڈاکٹر کے نام کی جگہ میرا نام لکھ دیتے ہیں میری مالی مدد کی غرض سے ، کیا میرے لیے اس چیک کو لینا جائز ہے؟ براہ کرم، اس بارے میں میری مدد کریں۔

    سوال: میں بنگلور میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں کارڈی لوجی (علم مراض قلب) میں کام کررہاہوں، میرے شعبہ کے صدر ہر مجھے ایک چیک دیتے ہیں جس میں ہزاروکی رقم ہوتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ کسی دوسرے اسپتال سے ہمارے اسپتال میں علاج کے لیے کسی مریض کے ریفر ہو کر آنے پر مجھے چیک ملتاہے۔ اصل بات یہ ہے کہ میں باہر کسی اسپتال میں کام نہیں کررہا ہوں۔ بس وہ ریفر کرنے والے ڈاکٹر کے نام کی جگہ میرا نام لکھ دیتے ہیں میری مالی مدد کی غرض سے ، کیا میرے لیے اس چیک کو لینا جائز ہے؟ براہ کرم، اس بارے میں میری مدد کریں۔

    جواب نمبر: 58817

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 360-360/Sd=7/1436-U اسپتال والے یا کوئی ڈاکٹر اپنے مریض کو کسی دوسرے اسپتال یا ڈاکٹر کے پاس ریفر کرنے پر جو کمیشن لیتے ہیں شرعاً وہ ناجائز ہے، مریض کو حسب ضرورت کسی دوسرے ڈاکٹر یا اسپتال کی طرف ریفر کرنا خود معالج کی ذمہ داری ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب خود ریفر کرنے والے ڈاکٹر کے لیے بطور کمیشن چیک لینا ناجائز ہے تو آپ کے لیے اس چیک کا لینا بدرجہٴ اولی ناجائز ہوگا؛ اس لیے کہ اسپتال سے چیک ریفر کرنے والے ڈاکٹر کے لیے ملتا ہے (جس کا لینا ناجائز ہے) اور آپ کے شعبے کے صدر ڈاکٹر کے نام کے بجائے آپ کا نام لکھ دیتے ہیں، اس میں جھوٹ اور دھوکہ بھی پایا جارہا ہے، صدر کو اگر آپ کی مالی مدد کرنا ہے تو اس کے لیے وہ حلال اور جائز طریقہ اختیار کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند