• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 58425

    عنوان: میں ایک کیمیکل کمپنی میں نوکری کررہا ہوں جو کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کیمکل فروخت کرتی ہے۔ جب ہم کوئی مصنوعات فروخت کرتے ہیں تو ٹیکنیشین کمیشن مانگتے ہیں اگر ہم ان کو کمیشن نہیں دیتے ہیں تو ہم کو بیوپاری نہیں ملتے ہیں۔ وہ لوگ مصنوعات کوحسن و قبح کی بنیاد پر نہیں خریدتے ہیں۔ اگر مل کے مالک پہلے ہی مہنگی مصنوعا ت خریدتے ہیں تو ہم اپنی مصنوعات کو استعمال کرتے ہوئے ان کی قیمت کم کرتے ہیں لیکن ان کے جنرل مینیجریا کسی اور کو کمیشن بھی دیتے ہیں۔ اسلام میں اس کا کیا حکم ہے؟

    سوال: میں ایک کیمیکل کمپنی میں نوکری کررہا ہوں جو کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کیمکل فروخت کرتی ہے۔ جب ہم کوئی مصنوعات فروخت کرتے ہیں تو ٹیکنیشین کمیشن مانگتے ہیں اگر ہم ان کو کمیشن نہیں دیتے ہیں تو ہم کو بیوپاری نہیں ملتے ہیں۔ وہ لوگ مصنوعات کوحسن و قبح کی بنیاد پر نہیں خریدتے ہیں۔ اگر مل کے مالک پہلے ہی مہنگی مصنوعا ت خریدتے ہیں تو ہم اپنی مصنوعات کو استعمال کرتے ہوئے ان کی قیمت کم کرتے ہیں لیکن ان کے جنرل مینیجریا کسی اور کو کمیشن بھی دیتے ہیں۔ اسلام میں اس کا کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 58425

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 703-734/L=6/1436-U صورتِ مسئولہ میں ٹیکنشین کمیشن کے نام پر جو رقم مانگتے ہیں وہ رشوت ہے اور رشوت دینا یا لینا دونوں اصلا حرام ہیں، البتہ اگر رشوت کے بغیر کام نہ چلتا ہو اور نہ ہی رشوت کے بغیر کیمیکل کی سپلائی کی کوئی متبادل جائز صورت ہو، تو بہ درجہٴ مجبوری رشوت دینے کی گنجائش ہے۔ ونوع منہا․․․ أو یہدي إلی السلطان مالاً؛ لیدفع ظلمہ عن نفسہ أو عن مالہ وہذا نوع لا یحل الأخذ لأحد․․․ وہل یحل للمعطي الإعطاء؟ عامة المشائخ علی أنہ یحل؛ لأنہ یجعل مالہ وقایةً لنفسہ أو یجعل بعض مالہ وقایةً للباقي (ہندیة: ۳/۳۳۱ زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند