• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 56340

    عنوان: کیا سرکاری ٹیکس ادا کیے بغیردرآمد اور برآمد جایز هے؟

    سوال: نھایت ھی اختصار کے ساتھ عرض ھے کہ دو اسلامی ممالک کے درمیان تجارت سرکاری ٹیکس ادا کئے بغیر جائز ھے یا نہیں؟ مطلب اگر کوئي شخص افغانستان سے تجارت کا مال (بغرض درآمد وبرآمد) لے کر پاکستان لے جائے اور سرکارکی ٹیکس ڈیوٹی نہ دے تو کیا یہ کاروبار جائز ھے یا نہیں؟ بعض لوگوں کا خیال ھے کہ اسلام میں سرحد (بارڈر) کا کوئی تصور نہیں ھے اسی لئے سرکار کا ٹیکس غیر قانونی ھے . رھنمائی فرمائے اس طرح کے کاروبار سے حاصل شدہ رقم جایز ھے یا نہیں؟ کیونکہ سرکارایسے کاروبار کو سمگلنک اور غیرقانونی کہتی ھے . تفصیلا'جواب سے مشکور وممنون فرمایئے

    جواب نمبر: 56340

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 68-64/N=2/1436-U (۱) حکومت اگر کسی واقعی وقابل ذکر منفعت کے عوض یہ ٹیکس لیتی ہے، تو یہ جائز ٹیکس ہے، ورنہ یہ ناواجبی وغیر شرعی ٹیکس ہے، پہلی صورت میں اس کی ادائیگی ضروری ہے جب کہ دوسری صورت میں عزت وآبرو کی حفاظت کی شرط اس سے بچاوٴ کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ (۲) اگر یہ واجبی ٹیکس ہے تو اس کی ادائیگی لازم ہے بلکہ ذمہ میں جو پچھلا باقی ہو وہ بھی کسی عنوان سے حکومت کوادا کرنا لازم ہے، البتہ کاروبار اوراس سے حاصل شدہ آمدنی حرام نہیں کہلائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند