• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 551

    عنوان: مجھے دبئی میں ایک آئل کمپنی میں کرین آپریٹر کا کام مل گیا ہے، میں نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ کمپنی  کہنا ہے کہ آپ کو داڑھی شیو کرنا (منڈوانا) پڑے گا، کیوں کہ یہاں پر ایک گیس نکلتی ہے جس سے بچاؤ کے لیے ماسک (چہرہ کا نقاب) پہننا پڑتا ہے، داڑھی کی وجہ سے وہ پہنا نہیں جاسکتا ہے اور بالوں پر گیس لگنے سے وہ جلد کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں ؛ اس لیے منڈوانا ضروری ہے۔ میں اپنے والدین کو اس ذریعہ سے حج کروانا چاہتا ہوں اور اچھی ملازمت بھی میری ضرورت ہے۔ کیا میں صورت مذکورہ کی وجہ سے داڑھی تراش سکتا ہوں یا داڑھی کو چھوٹا کرسکتا ہوں؟

    سوال:

    ایک مسئلہ میں فتوی درکار ہے۔ کامجھے دبئی میں ایک آئل کمپنی میں کرین آپریٹر کا کام مل گیا ہے، میں نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ کمپنی  کہنا ہے کہ آپ کو داڑھی شیو کرنا (منڈوانا) پڑے گا، کیوں کہ یہاں پر ایک گیس نکلتی ہے جس سے بچاؤ کے لیے ماسک (چہرہ کا نقاب) پہننا پڑتا ہے، داڑھی کی وجہ سے وہ پہنا نہیں جاسکتا ہے اور بالوں پر گیس لگنے سے وہ جلد کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں ؛ اس لیے منڈوانا ضروری ہے۔ میں اپنے والدین کو اس ذریعہ سے حج کروانا چاہتا ہوں اور اچھی ملازمت بھی میری ضرورت ہے۔ کیا میں صورت مذکورہ کی وجہ سے داڑھی تراش سکتا ہوں یا داڑھی کو چھوٹا کرسکتا ہوں؟

     

    اللہ آپ کو بہت جزائے خیر دے۔

    جواب نمبر: 551

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 111/د=110/د)

     

    داڑھی کا رکھنا واجب ہے اور اس کا منڈوانا حرام اور گناہ کبیرہ ہے، پھر یہ گناہ ایسا ہے کہ آدمی ہروقت اس گناہ کا مرتکب رہ کر اس میں ملوث رہتا ہے، نماز پڑھ رہا ہے تو گناہ کی حالت میں، حج کررہا ہے تو گناہ کی حالت میں۔ لیکن بعض لوگوں (مسلمانوں) کے دلوں سے اس کی اہمیت اور عظمت نکل گئی ہے اسی لیے غیرمسلم بھی ایسا ہی معاملہ کرتے ہیں۔

     

    آپ اس کی تدبیر اور طریقے سوچئے معلوم کیجیے کہ داڑھی کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنی ڈیوٹی آپ کس طرح انجام دے سکتے ہیں؟ اور اچھی نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے۔ ان شاء اللہ کوئی بہتر راستہ پیدا ہوگا۔ اور کسی دوسرے ذریعہٴ معاش کی فکر میں رہئے جہاں اس طرح کے گناہ سے حفاظت رہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند